Al-Risala · April 2016 · page 7

تاریخ کا مطالعہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۷

نے ایک عظیم جدوجہد کے ذریعے ایک ایسا انقلاب پیدا کیا، جس سے انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ اس دور میں ایک نیا تاریخی پراسس (process) جاری ہوا، جس کا نقطۂ انتہا (culmination) وہ دور تھا، جو بیسویں صدی میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔ اس دور کو سائنسی تہذیب کا دور کہا جاتا ہے۔

یہ سائنسی تہذیب عملاً ایک مادی تہذیب بن گئی۔ مغربی قو میں اس تہذیب کی چیمپئن تھیں۔ اس تہذیب کے دوران مادی کلچر کو فروغ حاصل ہوا۔ مغربی قو میں غالب قومیں بن گئیں۔ سیکولر طرزِ فکر، علم کے تمام شعبوں پر چھا گیا۔ یہ تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے سائنسی تہذیب تھی، لیکن اپنی عمومی تصویر کے اعتبار سے وہ مغربی تہذیب کہی جانے لگی۔

اس طرح بیسویں صدی میں عالمی سطح پر ایک ایسا دور وجود میں آیا، جو گویا مادی افکار کا ایک جنگل تھا۔ یہ جنگل بظاہر پوری طرح ایک مادی جنگل تھا۔ اس جنگل میں، از اول تا آخر، سب کچھ مادیت کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ بظاہر اس کا کوئی تعلق نہ توحید سے تھا اور نہ ربانیت سے۔ تاہم تہذیب کے اس مادی جنگل میں ایک عظیم ربانی عنصر موجود تھا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح درختوں کے جنگل میں شہد جیسی قیمتی چیز مخفی نیکٹر (nectar) کی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ یعنی مادی تہذیب کے جنگل میں معرفت کا نیکٹر ۔ اب مطلوب ہے کہ مادی تہذیب کے جنگل سے معرفت کے اس نیکٹر کو ایکسٹرییکٹ (extract) کیا جائے، اور پھر اس کی تدوین اور تنظیم کر کے خدا کے دین کا وہ فکری اظہار کیا جائے، جس کو قرآن میں اتمامِ نور (الصّف: 8) کہا گیا ہے۔ دین خداوندی کے اعتبار سے اکیسویں صدی میں کرنے کا سب سے زیادہ مطلوب کام یہی ہے۔ یہ کام اپنی نوعیت کے اعتبار سے اتنا اہم ہے کہ اس کو حدیث میں تاریخ کی عظیم ترین شہادت (گواہی) کہا گیا ہے ۔ هذا أعظم الناس شهادةً عند رب العالمين (صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2938) ۔ شہد کی مکھی جنگل کے اندر موجود نیکٹر کنٹینٹ (nectar content) سے بے خبر ہو تو جنگل اس کو صرف جنگل کی صورت میں دکھائی دے گا۔ لیکن شہد کی مکھی جب جنگل میں موجود نیکٹر کنٹینٹ کو

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page