خلیفہ کا مطلب
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۹
اس جنگل کے اندر مذہبی آزادی کا نیکٹر بھی موجود ہے۔ اب ضرورت ہے کہ لوگوں کے اندر شہد کی مکھی والی حکمت موجود ہو، یعنی ناموافق جنگل کو نظر انداز کرتے ہوئے موافق نیکٹر دریافت کر کے اس کو استعمال کرنا۔
خلیفہ کا مطلب
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے جب آدم کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو کہا: اِنّی جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِیفَةً (2:30)۔ یعنی میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ خلیفہ کا مطلب ہے بعد کو آنے والا (successor)۔ قرآن میں کئی جگہ یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے، مثلاً: ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْاَرْضِ (10:14)۔
قرآن کی مذکورہ آیت (2:30) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے پہلے جنوں کو پیدا کیا (الحجر: 27)۔ جنوں نے زمین میں فساد برپا کیا۔ اس کے بعد اللہ نے ایک اور مخلوق انسان کی صورت میں پیدا کی۔ اس وقت فرشتوں نے یہ شبہہ ظاہر کیا: اَتَجْعَلُ فِیهَا مَنْ يُفْسِدُ فِیهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ (2:30)۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں نے یہ بات جنوں کے تجربہ کی بنیاد پر کہی تھی۔ یعنی جنوں کو آزادی دی گئی، اس کے بعد انھوں نے فساد برپا کیا۔ اب اگر انسان کو آزاد مخلوق کی حیثیت دی جائے تو وہ بھی آزادی کا غلط استعمال کریں گے اور فساد برپا کریں گے۔ قرآن میں یہ حوالہ گویا بطور انتباہ (warning) ہے۔ یعنی اس طرح انسان کو متنبہ کیا گیا کہ وہ جنوں کی مثال سے سبق لیں، اور آزادی کا غلط استعمال کر کے دوبارہ فساد اور سفک دماء کی غلطی نہ کریں۔ ورنہ ان کو بھی جنوں جیسا انجام بھگتنا پڑے گا۔
قرآن کی اس آیت میں خلیفہ کا لفظ کسی سیاسی معنی میں نہیں ہے۔ وہ صرف اس معنی میں ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، انسانوں کے اندر توالد و تناسل کا نظام قائم ہوگا، ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا ہوگی، ایک گروہ کے بعد دوسرا گروہ اس کی جگہ لے گا۔ اس آیت میں خلیفہ کا لفظ انسان کے مشن کو بتانے کے لیے نہیں آیا ہے بلکہ اس کی تخلیقی نوعیت کو بتانے کے لیے آیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues