تاریخ کا مطالعہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۸
جان لے تو جنگل اس کے لئے ایک نعمت کی دنیا بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ جدید مادی تہذیب کا ہے۔ آپ اگر تہذیب کے اس مادی جنگل میں موجود معرفت کے اس نیکٹر کنٹنٹ سے بے خبر ہوں تو جدید تہذیب آپ کو صرف مادیات کا ایک جنگل دکھائی دے گی۔ لیکن اگر آپ اس تہذیب کے اندر موجود معرفت کنٹنٹ سے باخبر ہو جائیں تو جدید تہذیب آپ کے لئے ربانی معرفت کا ایک عظیم باغ بن جائے گی۔
اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ جدید سائنس کی ترقی ، ریسرچ اور سائنسی تحقیق کی علاحدگی سے شروع ہوئی۔ اس بنا پر مغربی دنیا میں یہ تصور قائم ہو گیا کہ فریڈم ، خیر مطلق (summum bonum) ہے۔ یہ تسلیم کر لیا گیا کہ اختلاف رائے (dissent) انسان کا ناقابل تنسیخ حق (right) ہے۔ یہ ایک بے حد اہم فیصلہ تھا۔ اس کی بنا پر پہلی بار تاریخ میں ایسا ہوا کہ آزادی رائے (freedom of expression) ایک مسلمہ انسانی حق قرار پایا۔ مذہب کے اعتبار سے یہ ایک بے حد اہم تبدیلی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ میں پہلی بار مذہبی آزادی (religious freedom) انسان کا ایک مسلمہ حق قرار پائی۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ مذہب کے معاملے میں ہر قسم کی رکاوٹ یا مذہبی جبر (religious persecution) کا خاتمہ ہو جائے۔ اس انقلاب نے پہلی بار انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ آزادانہ طور پر جس مذہب کو چاہے اختیار کرے، اور جس مذہب کی چاہے تبلیغ کرے ۔ صرف ایک شرط کے ساتھ کہ وہ جو کچھ کرے، پرامن (peaceful) انداز میں کرے۔
مگر دورِ جدید کی یہ نعمت ایک مخفی نیکٹر کی صورت میں پائی جاتی تھی، کیوں کہ آزادی جب انسانی حقوق (human rights) میں سے ایک حق قرار پایا تو یہ حق ہر ایک کے لئے تھا، وہ صرف اہل مذہب کے لئے نہیں تھا۔ چناں چہ اس کے بعد یہ ہوا کہ ہر آدمی اپنی مرضی کے مطابق اپنی آزادی کا کھلا استعمال کرنے لگا۔ اس طرح عملًا یہ ہوا کہ آزادی کا ایک عظیم جنگل آگ آیا، جس میں برہنگی (nudity) سے لے کر مذہب کی بے حرمتی (blasphemy) تک ہر منفی چیز موجود تھی۔ مگر
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues