Al-Risala · April 2016 · page 12

خلافت، ملوکیت

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۱۲

انتخاب کیا جائے۔ اس تخلیقی نقشہ (creation plan) کی بنا پر ہمیشہ یہی ہوگا کہ اس دنیا میں قائم ہونے والا سیاسی نظام انسان کی آزادی کے تابع ہو۔ اور اس بنا پر یہاں کبھی معیاری نظام نہ بن سکے۔

یہی اصول خود مسلم معاشرہ پر بھی منطبق (apply) ہوتا ہے۔ مسلم معاشرے میں افراد تو معیاری ہوسکتے ہیں۔ مگر عملی نظام مجموعی معنی میں کبھی معیاری نہیں ہوگا۔ ایک فرد خود اپنی ذاتی سوچ کے تابع ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اپنی ذات کی حد تک اپنے آپ کو جیسا چاہے، ویسا بنا سکتا ہے۔ لیکن مجموعی نظام ہمیشہ اجتماعی حالات کے تابع ہوتا ہے۔ انسان اپنی آزادی کا کبھی درست استعمال کرتا ہے اور کبھی غلط استعمال۔ اس بنا پر اس دنیا میں مجموعی اعتبار سے جو نظام بنے گا، وہ بیک وقت دونوں قسم کے اجزاء پر مشتمل ہوگا، کچھ درست اور کچھ نادرست۔ یہ فرق کسی نقص کی بنا پر نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ عین مطلوب ہوگا۔ کیوں کہ وہ خالق کے نقشہ تخلیق کے مطابق ہوگا۔

کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اسلام میں خلافت کا مطلب معیاری سیاسی نظام ہے۔ اس بنا پر وہ ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان معیاری سیاسی نظام بنانے کی تحریکیں چلاتے ہیں۔ مگر اس قسم کی کوشش سے مطلوب نظام تو قائم نہیں ہوا، البتہ مسلمانوں کے اندر باہمی ٹکراؤ کی غیر مطلوب حالت قائم ہوگئی۔ ایسے مسلم قائدین نے صرف پولیٹیکل اپوزیشن کی مثالیں قائم کی ہیں، ان کی کوششوں کا کبھی کوئی مثبت انجام برآمد نہیں ہوا۔ خلافت کی اصطلاح اسلام میں افراد انسانی کی آزادی کو بتاتی ہے، نہ کہ معیاری سیاسی نظام کو۔ قرآن کے مطابق انسان کو خلیفہ بمعنی آزاد مخلوق بنایا گیا ہے۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ انسان اپنی آزادی کا عملی استعمال کس طرح کرتا ہے : لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (10:14)۔

قرآن میں اولوالعزم انبیاء (الاحقاف: 35) کا حوالہ دیا گیا ہے۔ لیکن کسی بھی نبی کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنے زمانے میں معیاری خلافت کا نظام قائم کیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی قرآن کی کسی آیت میں یہ الفاظ نہیں آئے ہیں کہ تمھارا مشن یہ ہے کہ تم دنیا میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page