خلافت، ملوکیت
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۱۳
معیاری خلافت قائم کرو۔ پیغمبر اسلام کا مشن بھی دوسرے انبیاء (النساء: 165) کی طرح انذار وتبشیر (الفرقان: 56) تھا، نہ کہ معیاری معنوں میں کسی سیاسی انتظام کا قیام۔ پیغمبر اسلام کے بعد صحابہ کے زمانے میں جو سیاسی نظام قائم ہوا، اس میں بھی مسلم حا کم کو خلیفہ نہیں کہا گیا، بلکہ امیر المومنین کہا گیا۔ اس صورتِ حال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خلافت کا نظام ملوکیت کے نظام میں تبدیل ہو گیا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت کے حالات کے مطابق، جو سیاسی نظام قابل عمل (workable) تھا، وہ قائم ہوا اور وقت کے مسلمانوں نے اس کو قبول کیا۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہر نظام میں اسلام کا مطلوب تعمیری سفر بدستور جاری رہا۔ حالات میں تغیر کے باوجود، اس میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا۔ تھیسس، اینٹی تھیسس فریڈرش ہیگل (وفات 1831) اٹھارویں صدی کا مشہور جرمن فلسفی ہے۔ اس نے ایک فلسفہ پیش کیا۔ جس کو تھیسس اور انٹی تھیسس (thesis and anti-thesis) کہا جاتا ہے۔ اس نظریہ کو انسانی تاریخ پر منطبق کرتے ہوئے، کارل مارکس نے اپنا مشہور نظریہ جدلیاتی مادیت (dialectical materialism) وضع کیا۔ ہیگل اور مارکس، دونوں نے ایک مشترک غلطی کی۔ تاہم ان کے نظریے میں ایک جزئی صداقت پائی جاتی ہے۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نظریے کی اصل فطرت کے ایک قانون پر قائم ہے۔ یہ قانون وہی ہے جس کو قرآن میں قانون دفع (البقرۃ: 251، الحج: 40) کہا گیا ہے۔
قرآن میں دفع کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دفع کا لفظی مطلب ہے، ہٹانا (to repel)۔ اس سے مراد تاریخ کے وہ انقلابات ہیں جو ایک قوم کو غلبہ کے مقام سے ہٹاتے ہیں اور اس کے بعد دوسری قوم کو موقع ملتا ہے کہ وہ دنیا کا نظام سنبھالے۔ اس قسم کے انقلابات تاریخ میں بار بار ہوئے ہیں۔ یہ انقلابات بظاہر انسان کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ خالق کا منیجمنٹ (management) ہوتا ہے۔ خالق انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو مینیج (manage) کر رہا ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں دفع کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues