Al-Risala · April 2016 · page 14

اسلام اور سلطان

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۱۴

اسی تاریخی حقیقت کو ہیگل اور مارکس نے اس طرح بیان کیا کہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک صورت حال یا مقدمہ (thesis) سامنے آتا ہے۔ اس کے بعد خود تاریخی اسباب سے اس کا جوابی مقدمہ (anti-thesis) وجود میں آتا ہے۔ اس کے بعد ایک امتزاج (synthesis) وجود میں آتا ہے جو سابق حالت کی جگہ لے لیتا ہے۔ اس طرح تاریخ کا سفر برابر جاری رہتا ہے۔ یہ معاملہ سیکولر تاریخ کے ساتھ بھی پیش آتا ہے اور مذہبی تاریخ کے ساتھ بھی۔ قانون فطرت کے مطابق ایسا ہوتا ہے کہ حالات کے تحت ایک ایکشن (action) سامنے آتا ہے۔ پھر اس کے جواب میں ایک ری ایکشن (reaction) پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد تیسری شکل سامنے آتی ہے، وہ اس صورت حال کا رسپانس (response) ہے۔ نیگیٹیو رسپانس (negative response) حالات کو مزید بگاڑتا ہے، اور پازیٹیو رسپانس (positive response) سماج کو ایک بہتر دور کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی پوری انسانی تاریخ میں ہوا ہے۔ اس حقیقت کو جاننا، اور ری ایکشن سے بچ کر صورت حال کا پازیٹیو رسپانس دینا یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔

اسلام اور سلطان

اسلام کی تاریخ 610 عیسوی میں شروع ہوئی ۔ 632 عیسوی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس دور کا آغاز شروع ہوا جس کو عام طور پر خلافت کا دور کہا جاتا ہے۔ اس خلافت کی مدت تقریباتیس (30) سال ہے۔ اس مدت میں چار صحابی خلیفہ مقرر ہوئے۔ لیکن چاروں خلفاء کا تقرر چار مختلف طریقوں (methods) سے ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خلیفہ یا سیاسی قائد (political leader) کے تقرر کا معاملہ اسلام میں مبنی بر نص (based on text) معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ مبنی بر اجتہاد معاملہ ہے۔ اس بنا پر اس کے لیے کوئی واحد معیاری ماڈل نہیں ۔ اس کا فیصلہ حالات کی بنیاد پر بذریعہ اجتہاد کیا جاتا ہے۔

خلافت کے بعد امیر معاویہ (وفات : 41ھ) کا دور شروع ہوا۔ وہ ایک صحابی تھے۔ ان کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page