Al-Risala · April 2016 · page 16

اسلام اور سلطان

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۱۶

علماء نے متفقہ طور پر خاندانی حکومت (dynasty) کو کیوں درست ماڈل کے طور پر مان لیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کا اصل مقصد تمکین فی الارض (22:41) ہے، نہ کہ کسی مخصوص ڈھانچہ کو قائم کرنا۔ تمکین سے مراد سیاسی استحکام (political stability) ہے۔ سیاسی استحکام سے معتدل ماحول قائم ہوتا ہے۔ اور معتدل ماحول سے علمائے اسلام اور مصلحین امت کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر دین کے تمام غیر سیاسی شعبوں کو چلائیں۔ اس معاملے کی ایک حکمت یہ ہے کہ زندگی کا نظام قانون اور حکومت پر کم اور روایات (traditions) پر زیادہ چلتا ہے۔ اور روایات کا معاملہ یہ ہے کہ وہ لمبی مدت تک کے عمل کے بعد کسی سماج میں قائم ہوتی ہیں۔ درست طور پر کہا جاتا ہے کہ روایت ہمیشہ لمبی تاریخ کے بعد بنتی ہے :

It requires a lot of history to make a little tradition. یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حکومت کی حیثیت اگر سیاسی سلطنت (political empire) کی ہے تو روایات کی حیثیت غیر سیاسی سلطنت (non-political empire) کی ہے۔ روایات پر مبنی سلطنت اگرچہ ایک ناقابل مشاہدہ سلطنت (unseen empire) ہوتی ہے۔ لیکن کسی سماج کا نظام سب سے زیادہ بلکہ تقریباً 99 پرسنٹ عملاً اسی غیر سیاسی سلطنت کے تحت چلتا ہے۔ یہ غیر سیاسی سلطنت ہمیشہ وہ لوگ بناتے ہیں جو حکومت کے دائرے سے باہر مسلسل طور پر اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ اسلام پر نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اس لیے ضروری تھا کہ دین کا تسلسل قائم کرنے کے لیے مسلم سماج میں اسلام کا ایک روایتی ڈھانچہ بنے۔ اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ رسالت کے زمانے میں مخالفت، بائیکاٹ، لڑائی اور ہجرت جیسے واقعات کی بنا پر حالات کا وہ تسلسل نہیں بنا جس میں روایات قائم ہوں۔ خلافت کے زمانے میں باہمی اختلافات بہت زیادہ ابھر آئے۔ یہاں تک کہ چار میں سے تین خلیفہ کو قتل کر دیا گیا۔ اس لیے خلافت کے زمانے میں بھی دینی تسلسل کا مطلوب ماحول نہ بن سکا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page