Al-Risala · April 2016 · page 17

اسلام اور سلطان

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۱۷

اللہ اپنے منصوبے کے مطابق ، پورے عالم تخلیق کو پیچ (manage) کر رہا ہے۔ مادی کائنات (physical world) اللہ کے مکمل کنٹرول کے تحت چل رہی ہے۔ انسان کو چوں کہ مقصد تخلیق کے تحت آزادی دی گئی ہے۔ اس لیے انسانی دنیا میں اللہ کا طریقہ مختلف ہے۔ اور وہ ہے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے انسانی تاریخ کو مطلوب انداز میں پیچ کرنا۔ اس لیے اللہ کی مرضی ہوئی کہ ایسا سیاسی انتظام بنے جو مسلسل طور پر بلا انقطاع چلنے والا ہو۔ اس کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں پایا جاتا ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (15:9) ۔ حفاظت کے وسیع تر معنی میں یہاں پورے دین اسلام کی حفاظت شامل ہے۔ دور رسالت کے تقریباً 30 سال کے بعد امت کے اندر خاندانی حکومت (dynasty) کا جو نظام قائم ہوا، وہ اسی خدائی نظام کے تحت وقوع میں آیا۔ اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ خاندانی حکومت کے قیام کے بعد امت کے اندر مطلوب ماحول عملاً قائم ہو گیا۔ اس نظام کو امت نے قبول کر لیا۔ ایسا پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کے تحت ہوا۔ اس نظام کے تحت جو تسلسل قائم ہوا، اس کے زیر اثر دینی روایات بننا شروع ہو گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر پورے عالم اسلام میں دین کا ایک روایتی ڈھانچہ عملاً قائم ہے۔ اس کی وجہ سے امت کے ہر فرد کے لیے یہ آسان ہو گیا ہے کہ وہ پیدا ہوتے ہی دین اسلام کو پہچان لے اور اس پر عمل کرنے لگے۔

اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں امیر معاویہ کے بعد جب خاندانی ریاست کا نظام قائم ہوا تو حالات میں استحکام پیدا ہو گیا۔ اور تمام دینی کام اسموتھ (smooth) طور پر انجام پانے لگے۔ مثلاً قرآن کی حفاظت ، حدیث کی جمع و تدوین، فقہ کی تدوین، علوم اسلامی کی تدوین، مسجد و مدرسے کا نظام قائم ہونا ، حج و عمرہ کا نظام، دین کی تبلیغ و اشاعت، وغیرہ۔ یہ تمام کام امن اور اعتدال کے ماحول میں انجام پانے لگے۔ علوم اسلامی کا کتب خانہ پورا کا پورا اسی دور میں تیار ہوا۔ یہ کام اس سے پہلے عدم استحکام کی بنا پر کم ہو رہا تھا۔ اور استحکام کے بعد سے یہ نظام عملاً آج تک تقریباً اسی طرح جاری ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page