اسلام کا تاریخی رول
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۲۹
اب قیامت تک کوئی نیا قرآن جزئی یا کلی طور پر اترنے والا نہیں۔
قرآن کی اس آیت میں اکمال دین کا لفظ ہے۔ اکمال دین میں باعتبار تفصیل یہ بات بھی شامل ہے کہ اسلام کے دور اول میں قرآن مدون ہوا، پیغمبر کا اسوہ (example) ہر پہلو سے مستند طور پر قائم ہو گیا، کعبہ کو بتوں سے پاک کرکے توحید کا مرکز بنا دیا گیا، امت مسلمہ عملاً وجود میں آگئی، وغیرہ۔
دوسری قسم کی تعلیم کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: يُرِیدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَابَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (9:32) ۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے منھ سے بجھا دیں حالانکہ اللہ کو اس کے علاوہ کوئی بات منظور نہیں کہ وہ اپنے نور کو پورا کرے، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی نا گوار ہو۔
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے منھ سے بجھا دیں۔ اس آیت کا تعلق پوری انسانی تاریخ سے ہے۔ تاریخ میں مسلسل طور پر اہل انکار یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ ہدایت کے بارے میں اللہ کا منصوبہ مکمل نہ ہونے پائے۔ مگر قرآن کے نزول کے بعد اللہ نے یہ مقدر کر دیا کہ اس معاملے میں کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے۔ اور ہدایت کے بارے میں اللہ کا منصوبہ لازمی طور پر مکمل ہو کر رہے۔
اس طرح کی آیتوں یا حدیثوں میں مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ مقصد خود زمانے رسول میں پورا نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ اس طرح پورا ہوگا کہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ تاریخ میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) جاری ہوگا۔ اس عمل کے نقطۂ انتہا (culmination) پر ایسا ہوگا کہ اتمام نور کے بارے میں اللہ کا منصوبہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ جائے گا۔
اللہ کے منصوبے کے مطابق، یہ عمل پوری تاریخ میں جاری رہا۔ اس عمل میں مسلم لوگوں کے علاوہ سیکولر لوگوں نے بھی حصہ لیا۔ یہ عمل انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے جاری رہا۔ گویا بظاہر
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues