Al-Risala · April 2016 · page 28

اسلام کا تاریخی رول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۲۸

بیسویں صدی میں وہ دور آ گیا جب کہ یہ عمل اتنا طاقت ور ہو چکا تھا کہ وہ خود اپنی طاقت سے جاری رہ سکے۔ بیسویں صدی میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت کمزور ہو گئی۔ لیکن مطلوب عمل خود اپنی طاقت سے مسلسل طور پر جاری رہا۔ جدید دور میں ماڈرن تہذیب کا فروغ ، اور 1945 میں اقوام متحدہ (UNO) کا قیام وغیرہ، وہ واقعات ہیں، جب کہ یہ عمل امکانی طور پر اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اب تمام دلائل اور تمام مواقع توحید کی آئیڈیالوجی کے لیے پوری طرح موافق ہو چکے ہیں۔ اب اہل اسلام کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس انقلاب کو شعوری طور پر سمجھیں۔ اور دانش مندانہ منصوبہ بندی کے تحت توحید کی آئیڈیالوجی کو اسی طرح ایک معلوم حقیقت بنا دیں، جس طرح موجودہ زمانے میں سائنس کا علم لوگوں کے لیے ایک معلوم حقیقت بن چکا ہے۔

قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ وہ تمام دین پر اس کو غالب کر دے (التوبۃ: 33)۔ اس غلبہ سے مراد سیاسی غلبہ نہیں ہے، بلکہ نظریاتی غلبہ ہے۔ مزید یہ کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غلبہ کا یہ واقعہ پیغمبر اسلام کے اپنے زمانے میں مکمل طور پر ظاہر ہو جائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ انسانی میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) جاری ہوگا، جو آخر کار دین حق کے کامل نظریاتی غلبہ کے ہم معنی بن جائے گا۔

قرآن وحدیث میں کچھ بیانات حال (present) کی زبان میں ہیں، اور کچھ بیانات مستقبل (future) کی زبان میں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی کچھ تعلیمات وہ ہیں جو پیغمبر اسلام کے اپنے زمانے میں پوری ہونے والی تھیں۔ اور کچھ تعلیمات وہ ہیں جو رسول اور اصحاب رسول کے بعد کے زمانے میں اپنی تکمیل تک پہنچنے والی تھیں۔

پہلی قسم کی تعلیم کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (5:3)۔ یعنی آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو پورا کر دیا۔ قرآن کی اس آیت میں تکمیل سے مراد قرآن کے نزول کی تکمیل ہے۔ قرآن (کتاب اللہ) کا نزول اپنی آخری صورت میں ہو چکا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page