Political status quoism and dawah activism
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۳۲
پر تشدد نزاعات ہمیشہ سیاسی ایشو پر پیدا ہوتے ہیں۔ اس بنا پر اسلام میں یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ سیاست کے معاملے میں موجود صورت حال (status quo) پر عملاً راضی رہوتا کہ پر امن تعمیر کا ماحول ہمیشہ موجود رہے۔ اس طرح اسلام کا ربانی مشن مسلسل طور پر بلا انقطاع جاری رہے گا۔ اس اعتبار سے گویا ارض حجاز کو عملاً ایک ماڈل کی حیثیت حاصل ہے۔
سیاست اور تعمیر کے درمیان مذکورہ بندوبست (settlement) ہر مسلم علاقے کے لیے مطلوب ہے۔ حدیث میں ارض حجاز کا ذکر استثنائی طور پر اس لیے کیا گیا کہ اس علاقے کی مخصوص حیثیت کی بنا پر یہاں ایک نفسیاتی قسم کا جبر (compulsion) قائم ہو گیا ہے۔ فتنہ کے دور میں بھی عملاً ایسا ہوگا کہ مسلمان اس علاقے میں متشددانہ سرگرمیوں سے احتراز کریں گے۔ اس بنا پر یہ علاقہ دورِ فتنہ میں بھی لوگوں کے لیے بلا اعلان ایک ماڈل بنارہے گا۔
مذکورہ حدیث میں حجاز کا لفظ جغرافی مقام کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ اپنے ماڈل کے اعتبار سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حجاز کے لیے مسلمانوں کے اندر خصوصی احترام کی جو نفسیات پیدا ہوگی، اس کی وجہ سے یہ علاقہ عملاً سیاسی تشدد سے بچا رہے گا۔ اور اس بنا پر وہ لوگوں کے لیے ایک ماڈل کا کام کرے گا۔ یہ علاقہ اپنی صورت حال کے اعتبار سے مسلمانوں کو یہ بتا تا رہے گا کہ ہر جگہ تم اسی سیاسی ماڈل کو اختیار کرو تا کہ اسلام کا اصل مشن کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہے۔ نئے دور کا آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں چھ ہجری میں وہ واقعہ پیش آیا جو اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ صلح حدیبیہ اصلاً ایک پر امن معاہدے کا نام تھا۔ اس صلح سے پہلے اہل توحید اور اہل شرک کے درمیان ٹکراؤ کا سلسلہ جاری تھا۔ جس نے کئی بار جنگ کی صورت اختیار کر لی تھی۔ صلح حدیبیہ کے بعد یہ صورت حال ختم ہو گئی ۔ اس کے بعد عرب میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا، جب کہ اہل ایمان کو یہ آزادی مل گئی کہ وہ ملک میں پر امن طور پر اپنا مشن جاری رکھیں۔ فریق ثانی کی طرف سے ان کے لیے متشددانہ مزاحمت پیش نہیں آئے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues