Al-Risala · April 2016 · page 33

Political status quoism and dawah activism

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۳۳

یہ معاہدہ جب فریقین کے درمیان طے پا گیا تو اس کے بعد قرآن کی سورہ نمبر 48 نازل ہوئی۔ اس سورہ میں اللہ کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا : اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنَا ۝ لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا ۝ (الفتح: 1-2)۔ بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی۔ تا کہ اللہ تمھاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کر دے۔ اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے۔ اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے۔

قرآن کی اس آیت میں صراط مستقیم (straight path) سے کیا مراد ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کے وقت اور اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا، وہ اس معاملے میں شان نزول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پس منظر کو لے کر اس آیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں سیدھا راستہ سے مراد مقصد کے حصول کا پر امن طریقہ (peaceful method) ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیس فل میتھڈ کے ذریعے اپنے مشن کو زیادہ موثر طور پر جاری رکھا، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند سالوں میں پورا عرب اسلام کا علاقہ بن گیا۔ اس سے پہلے عرب میں شرک کا غلبہ تھا۔ اب پورے عرب میں توحید کا غلبہ قائم ہو گیا۔

یہ پر امن طریقہ کار (peaceful method) کا کرشمہ تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن کی پر امن منصوبہ بندی کی اور اس کا نتیجہ فتح مبین (clear victory) کی شکل میں ظاہر ہوا۔ یہاں فتح مبین سے مراد سیاسی فتح نہیں ہے، بلکہ نظریاتی فتح (ideological victory) ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام کا نشانہ نظریاتی فتح ہے نہ کہ سیاسی فتح۔ یہاں صلح حدیبیہ کا مقصد صرف عرب میں "فتح مبین" نہیں تھا۔ بلکہ یہ دنیا کے لیے ایک انقلاب کا آغاز تھا۔ صلح حدیبیہ کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ یہ عمل مختلف مراحل سے گزرتا ہوا تاریخ میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ جب کہ اقوام متحدہ (UNO) کے عالمی پلیٹ فارم پر دنیا کی تمام قوموں نے متحدہ طور پر یہ طے کیا کہ اب

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page