Political status quoism and dawah activism
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۳۵
ہوسکا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انسان اپنی آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر بار بار تشدد کا طریقہ اختیار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ خالق نے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، تاریخ کو اس طرح بیج (manage) کیا کہ تاریخ میں عملاً ایک جبر (compulsion) کی صورت پیدا ہوگئی۔ انسان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ انسان جبر اور تشدد کو اصولی طور پر قابل ترک قرار دے دے۔ اب اگر دنیا میں کہیں جنگ کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی حیثیت ایک استثنا (exception) کی ہوتی ہے۔ جب کہ ماضی کی تاریخ میں جنگ کو عموم کی حیثیت حاصل تھی۔
اب دنیا دو گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک سیکولر دنیا اور دوسرے مسلم دنیا۔ سیکولر دنیا کا مسلمہ معیار (accepted criterion) صرف ایک ہے، اور وہ نتیجہ (result) ہے۔ سیکولر دنیا کا اصول یہ ہے کہ جو عمل بے نتیجہ ہو، اس کو اختیار نہیں کیا جائے گا، صرف وہ عمل اختیار کیا جائے گا جو مطلوب نتیجہ پیدا کرنے والا ہو۔ سیکولر دنیا عقل کے اصول پر چلتی ہے۔ اور عقل کا اصول یہ ہے کہ نتیجہ خیز کام کرو، اور بے نتیجہ کام کو چھوڑ دو۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد دنیا میں نو آبادیات کا دور آیا۔ نو آبادیاتی نظام اصلاً صنعتی نظام تھا۔ ابتدائی دور میں قدیم تصور کے تحت نو آبادی طاقتوں نے یہ سمجھا کہ ہمیں اپنی صنعت کو فروغ دینے کے لیے پولیٹکل پاور کی بھی ضرورت ہے۔ چناں چہ انھوں نے اپنی صنعتی سرگرمیوں کے ساتھ ہر جگہ پولیٹکل اقتدار قائم کرنے کی کوشش کی، تا کہ وہ اپنی صنعتی سرگرمیوں کو سیاسی شیلٹر (political shelter) عطا کر سکیں۔
لیکن نو آبادی طاقتوں کو تجربے کے بعد محسوس ہوا کہ جدید دور قوم پرستی (nationalism) کا دور ہے۔ اس دور میں سیاسی شیلٹر کا تصور ایک نا قابل عمل تصور بن چکا ہے۔ چناں چہ انھوں نے سیاسی شیلٹر کا ایک بدل دریافت کر لیا۔ اور وہ تنظیم (organization) تھا۔ انھوں نے کامیاب طور پر یہ منصوبہ بنایا کہ سیاسی شیلٹر کے مقصد کو بہتر تنظیم کے ذریعے حاصل کریں۔ اب انھوں نے اپنی صنعتی سرگرمیوں کے لیے صرف دو چیزوں پر ساری توجہ صرف کر دی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues