Al-Risala · April 2016 · page 34

Political status quoism and dawah activism

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۳۴

دنیا میں بطور اصول ایک ہی طریق کار تسلیم شدہ طریق کار ہوگا۔ اور وہ پر امن طریق کار ہے۔ اب اصولی طور پر کسی بھی قوم کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے متشددانہ طریقہ کار (violent method) کو اختیار کرے۔

تاریخ کو اس مقام تک پہنچانے میں مختلف واقعات کا حصہ ہے۔ ان میں سے دواہم واقعات وہ ہیں، جن کو پہلی عالمی جنگ (1918-1914) اور دوسری عالمی جنگ (1945-1939) کہا جاتا ہے۔ ان دونوں جنگوں میں دنیا کی تمام بڑی طاقتیں براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر شریک تھیں۔ اس کے باوجود اس جنگ کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ جنگ کے ہر فریق کو غیر معمولی نقصان اٹھانا پڑا۔

یہ دونوں جنگیں تاریخ کی عظیم جنگیں (great wars) کہی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ ان جنگوں میں ایسے خطرناک ہتھیار استعمال ہوئے جو اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں ہوئے تھے۔ اس کے باوجود کوئی فریق اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ جان و مال کی بے پناہ قربانی کے باوجود ہر فریق کے حصے میں تباہی کے سوا کچھ اور نہیں آیا۔

ان عظیم جنگوں کے بعد تاریخ میں پہلی بار اس سلسلے میں ایک جبر (compulsion) کی صورت حال پیدا ہوئی۔ تمام قوموں نے اصولی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ اب ہمارا آپشن (option) صرف پر امن طریق کار ہوگا، جنگ اور تشدد کا طریقہ نہیں۔ چنانچہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمہ پر اقوام متحدہ وجود میں آئی جو گویا عالمی صلح حدیبیہ کے ہم معنی تھی۔ اس سے پہلے انسانی تاریخ میں اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان یہ سمجھا جاتا تھا کہ مقصد کے حصول کا واحد ذریعہ جنگ ہے۔ یہ تصور عملاً پوری تاریخ میں جاری رہا۔ اس تصور کا باقاعدہ خاتمہ صرف بیسویں صدی کے وسط میں ہوا جب کہ اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ تمام قوموں کے اتفاق رائے سے قائم ہو گیا۔ امن (peace) اس دنیا کا کائناتی کلچر ہے۔ انسان کے سوا پوری کائنات ہمیشہ سے اسی امن کلچر پر قائم ہے۔ انسان کو خالق نے آزادی عطا کی ہے۔ اس لیے انسانی دنیا میں یہ کلچر عملاً قائم نہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page