Al-Risala · April 2016 · page 37

اسلام کی تاریخ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۳۷

حدیث موجود نہیں۔ لیکن اب وہ اتنا زیادہ عام ہو چکا ہے کہ کوئی قابلِ ذکر عالم اس کے خلاف بولنے والا نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی زبان میں یہ کہا تھا : إذا وضع السيف في أمتي، فلن يرفع عنهم إلى يوم القيامة (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 3952)۔

اسلام کی تاریخ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ آپ کا مشن دعوت توحید کا مشن تھا۔ لوگوں کے لئے اس پیغمبرانہ مشن کے ماخذ ابتدائی دور میں صرف دو تھے، قرآن اور حدیث۔ قدیم زمانے میں پرنٹنگ پریس موجود نہ تھا، اس لئے لوگ حافظہ اور مخطوطات کے ذریعے اسلام کو سمجھتے رہے۔ ابتدائی دور میں اسلام کو سمجھنے کے لئے قرآن و حدیث کو واحد ماخذ (source) کی حیثیت حاصل تھی۔ لوگ قرآن اور حدیث کو پڑھتے اور اس سے اسلام کی تعلیمات اخذ کرتے۔ بعد کے زمانہ میں جو تبدیلی پیدا ہوئی، اس نے اس معاملے میں امت مسلمہ کے لئے اسلام کا ماخذ بدل دیا۔ اب قرآن و حدیث کے بجائے عملاً تاریخ ان کی ذہن سازی کا ذریعہ بن گئی۔ اس عمل کا آغاز دوسری صدی ہجری میں سیرت نگاری سے ہوا۔ اس ابتدائی دور میں سیرت پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ سب غزواتی پیٹرن پر لکھی گئیں۔ مثلاً مغازی الواقدی، مغازی موسیٰ بن عقبہ، مغازی ابن اسحاق، وغیرہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن اصلاً پرامن دعوت کا مشن تھا۔ لیکن ابتدائی دور کی ان کتابوں نے قارئین کو یہ تاثر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن، ایک ایسا مشن تھا جو جنگ و قتال پر مبنی تھا، نہ کہ اللہ کی طرف پرامن دعوت پر۔

عباسی خلافت 123ھ میں قائم ہوئی ۔ اس کے بعد اسلامی موضوعات پر تحریری کام بڑے پیمانے پر شروع ہوا۔ اب وسیع تر معنوں میں اسلام کی تاریخ لکھی جانے لگی۔ لیکن اب بھی بنیادی پیٹرن وہی باقی رہا۔ چناں چہ اس دور میں بھی اسلامی تاریخ کے موضوع پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ عملاً فتوحاتی پیٹرن پر لکھی گئیں۔ مثلاً فتوح الشام للواقدی، فتوح البلدان للبلاذری، وغیرہ۔ ایسا کیوں ہوا کہ پیغمبر اسلام کی سیرت لکھنے کے لئے غزواتی پیٹرن اختیار کیا گیا۔ اسی طرح

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page