اسلام کی تاریخ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۳۸
اسلام کی تاریخ لکھنے کے لئے کیوں فتوحاتی پیٹرن ایک مقبول پیٹرن بن گیا۔ جواب یہ ہے کہ ایسا زمانی عنصر (age factor) کی بنا پر ہوا۔ پہلے زمانے میں تاریخ نگاری کا یہی پیٹرن تمام دنیا میں رایج تھا۔ بادشاہوں کے قصے، سلطنت کے واقعات، اور حکمرانوں کی لڑائیاں، قدیم زمانے میں اسی قسم کی چیزیں تاریخ کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔ اس لئے جب مسلمانوں میں تاریخ نگاری کا کام شروع ہوا تو انھوں نے زمانی تاثر کے تحت اسلام میں بھی تاریخ نگاری کے اسی روایتی پیٹرن کو اختیار کر لیا۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں مضاہات (9:30) کہا گیا ہے۔
عبد الرحمن ابن خلدون (وفات: 808ھ) پہلا شخص ہے، جس نے تاریخ نگاری کے اس پیٹرن پر تنقید کی۔ اس نے کہا کہ تاریخ کو پوری انسانی سرگرمی کا بیان ہونا چاہئے، نہ کہ صرف بادشاہت اور سلطنت کا بیان۔ ابن خلدون نے اپنے اس نقطۂ نظر کو اپنی اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ پیش کیا، جو مقدمہ ابن خلدون کے نام سے مشہور ہے۔ ابن خلدون نے خود بھی تاریخ پر ایک کتاب لکھی، جس کا ٹائٹل یہ تھا: دیوان المبتدا والخبر في تاريخ العرب والبربر ومن عاصرهم من ذوي الشأن الأكبر۔ مگر ابن خلدون کی اپنی لکھی کتاب بھی تاریخ نویسی کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ ابن خلدون کی تاریخ کی یہ کتاب بھی عملاً اس دور کی دوسری تاریخ کی کتابوں جیسی ایک کتاب بن گئی۔
ظہور اسلام کے بعد ہزار سال تک اسلام کی تاریخ پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اسی پیٹرن پر لکھی گئیں، جس کو سیاسی پیٹرن کہنا صحیح ہوگا۔ تاریخ کی یہ کتابیں اسلام کو ایک ایسے دین کے طور پر پیش کرتی رہیں، جو عملاً سیاسی نوعیت کے واقعات کا ایک مجموعہ تھا۔ تاریخ نگاری کے اس سیاسی پیٹرن کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسلام کی تاریخ سے وہی چیز حذف ہو گئی، جو اس کا اہم ترین جز تھی، اور وہ دعوت الی اللہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بعد کے دور میں اسلام کی تاریخ کے نام سے جو کتابیں لکھی گئیں، ان میں دعوت کا پہلو سرے سے موجود ہی نہیں۔ مثلاً مورخ ابن اثیر کی کتاب کا نام الكامل في التاريخ ہے۔ لیکن وہ اسلامی تاریخ کا کامل بیان نہیں۔ کیوں
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues