Al-Risala · January 2016 · page 20

ذہنی سانچہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۰

ذہنی سانچہ

ہر آدمی کے اندر مختلف حالات کے تحت اس کا ایک مائنڈ سیٹ (mindset) یا ایک ذہنی سانچہ (intellectual mould) بن جاتا ہے۔ آدمی اسی کے مطابق سوچتا ہے، آدمی اسی کے مطابق رائے بناتا ہے۔ حقیقت واقع خواہ بظاہر کچھ اور ہو، لیکن آدمی کے ذہن میں چیزوں کے بارے میں وہی تصویر بنتی ہے، جو اس کے اپنے ذہنی سانچے کے مطابق ہو۔

انسان کے بارے میں یہ حقیقت قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا (17:84) یعنی علم الہی میں کسی چیز کی نوعیت خواہ کچھ ہو لیکن انسان اپنے خود ساخته شاکلہ (mindset) کے مطابق چیزوں کے بارے میں رائے قائم کر لیتا ہے۔ اس کمزوری سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو اپنے ذہن کو اتنا زیادہ ارتقا یافتہ بنائے کہ وہ چیزوں کو اللہ کی نظر سے دیکھ سکے۔

انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ دنیا میں ہر آدمی ایک سماجی ماحول کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ اس ماحول میں ہر وقت روزانہ مختلف قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ انسان خواہ چاہے یا نہ چاہے، وہ اپنے ماحول سے اثر قبول کرتا رہتا ہے۔ اس طرح ہر انسان کا کیس ایک متاثرہ ذہن کا کیس بن جاتا ہے۔ یہ متاثرہ ذہن دھیرے دھیرے اتنا پختہ ہو جاتا ہے کہ آدمی اسی کو درست سمجھنے لگتا ہے۔ ایسے حالات میں ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ مسلسل طور پر اپنا محاسبہ کرتا رہے۔ وہ دریافت کرتا رہے کہ کیا چیز فطری ہے۔ اور وہ کیا چیز ہے جس کو اس کے ذہن نے ماحول کے اثر سے قبول کر لیا ہے۔ اسی ذہنی کوشش کا نام محاسبہ (introspection) ہے۔ یہی محاسبہ کا عمل وہ چیز ہے جو کسی انسان کو اس سے بچاتا ہے کہ آدمی کے اندر غلط قسم کا ذہنی سانچہ بن جائے، اور وہ اس غلط سانچے کے زیر اثر زندگی گزارنے لگے۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ آدمی اپنا محاسبہ آپ بن جائے، وہ اپنی نگرانی خود کرنے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues

Printed page