Al-Risala · January 2016 · page 21

ذہنی سانچہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۱

دنیا اور آخرت

انسان موجودہ دنیا میں پیدا ہوتا ہے۔ یہاں وہ اپنے صبح و شام گزارتا ہے۔ مختلف تجربات کے دوران یہاں اس کی زندگی کا سفر جاری رہتا ہے۔ ان تجربات کے درمیان شعوری یا غیر شعوری طور پر انسان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ یہی موجودہ دنیا اس کے لیے حقیقی دنیا (real world) ہے۔ اس کے مقابلہ میں اس کو محسوس ہوتا ہے کہ آخرت کی دنیا تصوراتی دنیا (imaginary world) ہے۔ دونوں دنیاؤں کے درمیان بظاہر اس فرق کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا تفکیری عمل (thinking process) موجودہ دنیا کی سطح پر جاری ہو جاتا ہے۔ اس کی سوچ اور اس کی منصوبہ بندی میں عملاً آخرت کے لیے کوئی حقیقی جگہ باقی نہیں رہتی۔ یہ انسان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وسیع تر انجام کے اعتبار سے صحیح یہ ہے کہ انسان کے اندر آخرت رخی سوچ (Akhirat-oriented thinking) بنے نہ کہ دنیارخی سوچ۔ انسان کو اس معاملہ میں بے راہ روی سے بچانے کے لئے فطرت نے یہ انتظام کیا ہے کہ موجودہ دنیا کو مسائل کی دنیا (دار الکبد) بنا دیا۔ یہ مسائل انسان کے لئے اسپیڈ بریکر (speed breaker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مسائل اس لئے ہیں کہ انسان موجودہ دنیا کو حقیقی دنیا نہ سمجھے بلکہ آخرت کے اعتبار سے اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔

زندگی کی یہی حقیقت ہے جس کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (2:155)۔ یعنی اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرہ کی کمی سے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو۔

زندگی کے امتحان میں صبر کا رول یہ ہے کہ وہ آدمی کو ہر صورت حال میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ وہ انسان کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ درست راستے سے ہٹ کر کسی اور طرف چل پڑے ۔ صبر آدمی کو ہر حال میں اصول کی روش پر قائم رکھتا ہے۔ صبر کے بغیر اس امتحان میں پورا اترنا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues

Printed page