آسان فارمولا
الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۱۱
آسان فارمولا
مولانا سید سلیمان ندوی (وفات 1953) ایک مشہور عالم تھے۔ ان کو کئی قسم کی مصیبتیں پیش آئیں۔ اسی پریشانی کی حالت میں پاکستان میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اپنے آخری زمانے میں انھوں نے کسی سے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
ہم ایسے رہے یا کہ ویسے رہے وہاں دیکھنا ہے کہ کیسے رہے اس شعر میں زندگی کی ایک تلخ حقیقت کو بالکل سادہ انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ موجودہ دنیا مسائل کی دنیا ہے۔ یہاں ہر عورت اور ہر مرد کو مسائل کے درمیان جینا پڑتا ہے۔ اس بنا پر اکثر لوگ پریشانی کی حالت میں زندگی گزارتے ہیں۔ اس مسئلے کا آسان فارمولا یہ ہے کہ جب آپ کو اپنی مصیبت یاد آئے تو مذکورہ شعر کو پڑھ لیں۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ پریشانی کا احساس ختم ہو گیا۔ ذہن کو نارمل بنانے کا یہ نہایت آسان فارمولا ہے۔ یہ فارمولا ایک حدیثِ رسول پر مبنی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک واقعہ پیش آیا جس کو غزوہ خندق کہا جاتا ہے۔ اس موقعہ پر مدینہ کے اہل ایمان سخت مشکلات سے دوچار ہوئے۔ قرآن میں اس کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: ہُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا (33:11) ۔ یعنی اس وقت ایمان والے امتحان میں ڈالے گئے اور بالکل ہلا دئے گئے۔ اس موقعہ پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تاریخی جملہ کہا تھا جو ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: اللهم لا عيش إلا عيش الآخرہ، فاغفر للأنصار والمهاجره ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 6414۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1805) ۔ یعنی اے اللہ، زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ مولانا سید سلیمان ندوی کے الفاظ میں، یہ دنیا امتحان گاہ ہے۔ یہاں تو اسی قسم کے حالات پیش آئیں گے۔ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ اے اللہ، تو وہاں ہم کو جنت میں داخل فرما۔ یہی اصل کامیابی ہے۔