غلط سوچ
الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۱۲
غلط سوچ
عبد اللہ ابن مسعود کا ایک قول طبرانی نے المعجم الکبیر میں نقل کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: عن عبد الله، قال: إن من أكبر الذنب أن يقول الرجل لأخيه: اتق الله، فيقول: عليك نفسك أنت تأمرني (المعجم الكبير، حديث نمبر 8587) ۔ یعنی یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی سے یہ کہے: اللہ سے ڈرو، تو وہ جواب میں کہے: تم اپنی فکر کرو، تم مجھ کو نصیحت کرو گے۔ یہ جواب صحیح ذہن کی نمائندگی نہیں۔ صحیح ذہن یہ ہے کہ آدمی کو جب نصیحت کی جائے تو وہ سوچ میں پڑ جائے۔ اور اپنی اصلاح کی فکر کرنے لگے۔ نصیحت کرنے والا خواہ کوئی بھی ہو، لیکن نصیحت کو ہمیشہ نصیحت کے اعتبار سے لینا چاہیے۔ اس اعتبار سے نہیں کہ کرنے والا کون ہے۔ صحابی کے اس قول کو تو وسیعی معنی میں لیا جائے تو وہ اس ذہن پر بھی منطبق ہوتا ہے جو لوگوں کے درمیان اپنے اور غیر کی تفریق میں جیتے ہیں۔ جن کا حال یہ ہے کہ اگر ان سے یہ کہا جائے کہ مسلمانوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ عام انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ تو وہ جواب دیں گے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کر لیجیے، اس کے بعد غیر مسلموں میں تبلیغ کیجیے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، اس قسم کی تفریق درست نہیں۔ ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے، ان کو وہ ہر موقعہ پر اللہ کا پیغام پہنچائے۔ خواہ یہ لوگ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔ یہ پیغام رسانی انسان کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضا ہے۔ اور خیر خواهی کے معاملے میں اس قسم کی تفریق درست نہیں۔
پیغام رسانی کی یہ ذمہ داری ہر مسلمان کے اندر انسان دوستی (human-friendly) کا مزاج بناتی ہے۔ انسان کی ہمدردی کے لیے اس کا یہ جذبہ ہر حال میں ظاہر ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے اور غیر کی تفریق بے حسی کی علامت ہے۔ ایمان آدمی کو حساس انسان بناتا ہے۔ اور حساس انسان اس قسم کی تفریق کا تحمل نہیں کر سکتا۔