ذاتی عقل، علمی عقل
الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۱۶
ذاتی عقل، علمی عقل
2 مارچ 2009 کو نئی دہلی کے انٹرنیشنل سنٹر (لودھی روڈ) میں ایک سیمنار ہوا۔ اس سیمنار میں جدید تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس کا موضوع آزادی اظہار رائے (freedom of expression) تھا۔ اس موضوع کے تحت، اس سیمنار میں حسب ذیل سوال پر مذاکرہ ہوا: Is the Quran subject to rational scrutiny سیمنار کی دعوت پر راقم الحروف نے بھی اس میں شرکت کی۔ میں نے دیکھا کہ کانفرنس کے تمام شرکاء پر جوش طور پر اس نظریے کی وکالت کر رہے ہیں کہ قرآن کوئی منزہ عن الخطاء کتاب (infallible book) نہیں ہے۔ ہم کو یہ حق ہونا چاہئے کہ ہم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے قرآن پر فکری تنقید کر سکیں۔
اس مذاکرہ اور اس قسم کے دوسرے مذاکروں میں شرکت کے بعد میرا احساس یہ ہے کہ لوگ عقل (reason) کا لفظ تو بہت بولتے ہیں، لیکن لوگوں کو شاید یہ نہیں معلوم کہ عقل کی حدود کیا ہیں اور عقل کے استعمال سے کیا مراد ہے۔ اصل یہ ہے کہ عقل کے استعمال کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے، ذاتی عقل (personal reason) کے تحت بولنا۔ اور دوسرا ہے، علمی طور پر ثابت شدہ حقائق کی روشنی میں عقل کا استعمال کرنا۔ علمی اعتبار سے ذاتی عقل کی کوئی اہمیت نہیں، عقل کا صرف وہی استعمال درست ہے جو ثابت شدہ حقائق کی بنیاد پر کیا گیا ہو: One's reason is only the capacity to understand. Reason itself is not an authority. The scientific method in this regard is that if one has some idea, one has to examine it on the basis of scientifically established facts. Only after this, one's idea will be regarded as correct. Otherwise, it is simply personal reason or pure reason. In this sense, reason is of two kinds: 1. Reason verified by scientific facts. 2. Reason unsupported by such verification.