ذاتی عقل، علمی عقل
الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۱۷
مذکورہ سیمنار میں، میں نے یہ بات کہی تو وہاں کوئی شخص اس کو رد نہ کر سکا۔ تاہم ایک صاحب نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی ذاتی عقل سے کوئی رائے بنائے تو اس کی قدر و قیمت کیا ہے۔ What, if any, is the validity of reason unsupported by میں نے کہا کہ محض ذاتی عقل کی بنیاد پر جو رائے قائم کی جائے، وہ دوسروں کے لئے ناقابل قبول ہوگی۔ کسی شخص کی ذاتی رائے دوسروں کے لئے اسی وقت قابل قبول ہو سکتی ہے جب کہ وہ ثابت کرے کہ اس کی رائے مسلمہ علمی بنیاد پر قائم ہے:
Personal reason unsupported by scientific data is invalid. If قرآن کی صداقت میرے تجربے کے مطابق، قرآن کے ذیل میں ریشنل اسکروٹنی (rational scrutiny) کا لفظ ایک غیر متعلق (irrelevant) لفظ ہے۔ قرآن کے ذیل میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کے لیے ریشنل اسٹڈی (rational study) کا لفظ استعمال کیا جائے۔ قرآن نے اس معاملے میں مطالعے کا جو اصول مقرر کیا ہے، وہ بلاشبہ ایک علمی اصول ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: لو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا (4:82) یعنی اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس کے اندر بڑا اختلاف پاتے۔ اس آیت کے مطابق، قرآن کی صداقت (veracity) کو جاننے کا معیار یہ ہے کہ قرآن کے بیانات کا علمی مسلمات (scientific facts) سے تقابل کر کے دیکھا جائے۔ اگر دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہ ہو تو وہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی صداقت عقلی معیار