Al-Risala · May 2016 · page 20

ذاتی عقل، علمی عقل

الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۲۰

اسلام کے عقائد کا تعلق عالم غیب (unseen world) سے ہے، اس لیے بظاہر وہ عقلی مطالعے سے باہر کی چیز معلوم ہوتا ہے، لیکن استنباط کو مستند طریق مطالعہ ماننے کے بعد یہ فرق باقی نہیں رہتا۔ مثال کے طورپر وحی (revelation) کو لیجیے۔ اسلام کے مطابق، قرآن وحی پر مبنی ایک کتاب ہے۔ وحی مشاہدے سے باہر کی چیز ہے، اس بنا پر بیسویں صدی کے نصف اول تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ قرآن صرف ایک عقیدے کی کتاب ہے، اس کی صداقت کو عقلی بنیاد پر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اب جب کہ استنباطی استدلال کو مستند استدلال سمجھا جا چکا ہے، اب اصولی طور پر یہ فرق باقی نہیں رہا۔

قرآن میں ایسے بیانات موجود ہیں جو استنباطی اصول کے مطابق، یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن کا تعلق ایک ایسے ماخذ (source) سے ہے جو انسانی علم سے ماورا اپنا وجود رکھتا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو قدیم مصر کے فرعون (Pharaoh Ramesses II) کے جسم سے تعلق رکھتا ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: راقم الحروف کی کتاب ’’عظمت قرآن‘‘) ہر اتوار کو نظام الدین ویسٹ سی پی ایس سنٹر پر ساڑھے دس بجے سے صدر اسلامی مرکز کا خطاب ہوتا ہے۔ یہ خطاب پروگرام میں موجود سامعین کے علاوہ انٹر نیٹ پر لائیو کاسٹ کیا جاتا ہے، جسے مختلف مقامات پر سامعین سنتے ہیں۔ فروری 2016 میں ان موضوعات پر خطاب ہوئے: • تیس سیکنڈ کا معاملہ • خدا کا منصوبہ تخلیق A Matter of 30 Seconds The Creation Plan of God February 7, 2016 February 14, 2016 • خوفِ خدا • زاویہ نظر Fear of God Angle of Vision February 21, 2016 February 28, 2016 ان تمام خطابات کو سننے کے لیے، اس لنک پر کلک کریں:

http://www.cpsglobal.org/podcast/sunday-lectures

‹ Previous page Next page › Contents of May 2016 All issues

Printed page