Al-Risala · May 2016 · page 19

ذاتی عقل، علمی عقل

الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۱۹

علم(knowledge of things)، سچائی کا علم(knowledge of truths)۔

انسان کے پاس صرف ایک ہی ذریعہ ہے جس سے وہ ان علوم تک پہنچ سکتا ہے اور وہ عقل (reason) ہے۔ آدمی اپنی عقل کو استعمال کر کے دونوں قسموں کے علم تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ انسان کے پاس ذاتی طور پر، عقل کے سوا، کوئی دوسرا ذریعہ نہیں جس سے وہ ان علوم سے واقفیت حاصل کر سکے۔

تاہم جس طرح علوم کی دو قسمیں ہیں، اُسی طرح عقل کے استعمال کی بھی دو قسمیں ہیں۔ جہاں تک چیزوں کو جاننے کا معاملہ ہے، اُن کے سلسلے میں مشاہدہ (observation) اور تجربہ (experience) کے ذرائع کو استعمال کرنا ممکن ہے، طبیعی علوم (physical sciences) کے مطالعے کا دائرہ چیزیں (things) ہیں، اس لیے طبیعی علوم میں اصلاً مشاہدہ اور تجربہ کے ذرائع کو استعمال کیا جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ علم کا دوسرا دائرہ، یعنی سچائیوں تک کس طرح پہنچا جائے۔ موجودہ زمانے کے علماء سائنس کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ چیز جس کو سچائی کہا جاتا ہے، اُس تک پہنچنے کا صرف ایک ذریعہ ہے اور وہ استنباط (inference) ہے، یعنی مشاہداتی حقائق کے حوالے سے، غیر مشاہداتی حقائق کے علم تک پہنچنا۔

بیسویں صدی کے نصف اول تک طبیعی سائنس (physical science) کی دنیا میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ علم وہی ہے جو مشاہداتی ذرائع سے معلوم ہو۔ لیکن علم کا سفر جب عالم کبیر (macroworld) سے گزر کر عالم صغیر (microworld) تک پہنچا تو یہ مفروضہ ٹوٹ گیا۔ اب یہ تسلیم کر لیا گیا کہ استنباط بھی علم کے حصول کا ایک ذریعہ ہے، شرط یہ ہے کہ وہ مسلمہ علمی قواعد کی بنیاد پر کیا گیا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقلی طریق مطالعہ اور اسلامی طریق مطالعہ کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ عقلی طریق مطالعہ، اسلام کے مطالعے کے لیے بھی اتنا ہی مفید بن جاتا ہے جتنا کہ دوسرے علوم کے لیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2016 All issues

Printed page