کنٹری بیوشن کا سوال
الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۲۹
غلطی کا اعتراف
اگر کسی سے معاملا کے تریخ نہ آنے سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس کے بعد آرام شده مناره ہوں ، اور فوراً یہ کہہ دیں کہ بھائی صاحب ، مجھ سے غلطی ہوگئی ۔ مجھ کو معاف کر دیجیے : Sorry, I was wrong!
اگر آپ ایسا کہیں ۔ تو آپ کی طرف سے یہ غلطی پر معافی مانگنے کا معاملہ ، ہوتا ہے ۔ لیکن اگر آپ ایسا ہیں۔ لو آپ کی طرف سے یہ معافی پر معانی مانگنے کا معاملہ ہوتا ہے۔ عین دوسرے شخص کے لیے وہ اس کے ضمیر (conscience) کو جگانے کا معاملہ بن جاتا ہے۔ اس کا ضمیر اس سے کہتا ہے کہ دوسرے شخص نے شرافت کا ثبوت دیا ہے۔ تم کو بھی اسی طرح شرافت کا ثبوت دینا چاہیے۔ وہ اگر اپنی غلطی کی معافی مانگ رہا ہے تو تم کو بھی اس کے ساتھ اسی درجے کا کوئی معاملہ کرنا چاہیے۔
غلطی کی معافی مانگنا بظاہر ایک پسپائی کا معاملہ ہے۔ لیکن انسانی نفسیات کے اعتبار سے وہ اقدام کا ایک معاملہ ہے۔ معافی مانگنے والا اپنے شرافت کا ثبوت دے کر فریق ثانی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بھی اس کے ساتھ شرافت کا ثبوت دے۔ تاکہ لوگوں کی نظر میں اور خود اپنی نظر میں وہ کم تر ثابت نہ ہو۔ غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا، معاملے کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس، غلطی کرنے کے بعد غلطی کا اعتراف کرنا معاملے کو ختم کر دیتا ہے۔ ایک واقعہ جو انسانوں کے درمیان نفرت کا سبب بن سکتا تھا، وہ دونوں کو ایک دوسرے کا دوست بنا دیتا ہے۔ آدمی نے غلطی کر کے جو کچھ کھویا تھا، وہ غلطی کا اعتراف کر کے اس سے بہت زیادہ پالیتا ہے۔ غلطی کرنے کے بعد، اپنی غلطی کی صفائی پیش کرنا یا یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ اس کی غلطی، غلطی نہیں تھی، صرف نادانی کا کام ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی غلطی کرنے کے بعد فورا اپنی غلطی کو مان لے۔ فورا اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا ایک موقعے کو کھونے کے ہم معنی ہے، ایک ایسا موقعہ جو دوبارہ کبھی آنے والا نہیں ۔