Al-Risala · May 2016 · page 30

تو بہ کا عمل

الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۳۰

تو بہ کا عمل

قرآن کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو تو بہ کہا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں تو بہ کی اصل حقیقت ندامت (repentance) ہے (مسند احمد، حدیث نمبر : 3568)۔ تو بہ کر نے والے کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ (25:70)۔ یعنی اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا۔

اس کے مطابق ، تو بہ ایک ایسی چیز ہے جس سے سیہ (برائی) حسنہ (نیکی) میں بدل جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو سچے ایمان والے ہوں ، وہ جب غلطی کرتے ہیں تو اس کے بعد ان کے اندر شدید ندامت پیدا ہوتی ہے۔ یہ ندامت ان کے لیے ایک ذہنی صدمہ (intellectual shock) بن جاتی ہے۔ ان کے ذہن میں ایک شدید ہل چل پیدا ہوتی ہے۔ اس ذہنی ہل چل کے ذریعے ان کے اندر ایک تخلیقیت (creativity) جاگتی ہے۔ ان کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق ، اس عمل (process) کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے — غلطی ، اس کے بعد ندامت ، اور پھر نتیجہ ذہنی ارتقا :

mistake + repentance = intellectual development

اجتماعی زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کی بات دوسرے شخص کے اندر غصہ پیدا کرتی ہے۔ اس وقت انسان دو امکان (options) کے درمیان رہتا ہے۔ یا وہ فرشتے کی آواز کو سنے اور اس کی پیروی کرے، یا وہ شیطان کی آواز کو سنے اور اس کے پیچھے چلنے لگے۔ فرشتے کی آواز سننے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر محاسبہ (introspection) کا عمل جاگتا ہے۔ وہ اپنے اوپر نظر ثانی کرنے لگتا ہے۔ اس طرح آدمی کے اندر خود احتسابی کا عمل جاگتا ہے، جو باعتبارِ نتیجہ ذہنی ارتقا کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کو وہ حقیقتیں سمجھ میں آنے لگتی ہیں ، جو اس سے پہلے اس کے لیے نا معلوم بنی ہوئی تھیں۔ اس کے مقابلے میں جو شخص رد عمل کا شکار ہو جائے ، اس کا وہ حال ہوگا جو قرآن کی ایک آیت میں بیان ہوا ہے (الاعراف : 202)۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2016 All issues

Printed page