Al-Risala · May 2016 · page 33

نیت، بصیرت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۳۳

نیت، بصیرت

اسلام میں نیت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ لیکن صرف نیت کافی نہیں۔ ایک آدمی کے اندر اچھی نیت (good intention) موجود ہو تو وہ بلاشبہ انفرادی زندگی کے اعتبار سے ایک کامیاب انسان بن سکتا ہے۔ لیکن جہاں تک اجتماعی زندگی کا سوال ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے ایک اور چیز لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ بصیرت (wisdom) ہے۔ بصیرت کے بغیر کوئی شخص اجتماعی زندگی کے امتحان میں پورا نہیں اتر سکتا۔ خواہ وہ نیت کے اعتبار سے کتنا ہی اچھا انسان ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ بحران کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اجتماعی زندگی میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جس کے اندر بحران کو مینیج کرنے کی صلاحیت (art of crisis management) پائی جاتی ہو۔ اور یہ صفت صرف اسی شخص کے اندر پائی جاتی ہے جو ایک صاحب بصیرت انسان ہو۔ اسلام کے ابتدائی دور میں دونوں قسم کی مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال خالد بن ولید کی ہے۔ وہ اسلامی فوج کے سردار تھے۔ خلیفہ دوم عمر کے زمانے میں ان کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو عام انسان کو بہت زیادہ برہم کر سکتا ہے۔ لیکن حضرت خالد بن ولید ایک با بصیرت انسان تھے، اس کو انھوں نے یہ کہہ کر اپنے لیے غیر مؤثر بنا دیا: انی لا اقاتل فی سبيل عمر، ولكن اقاتل فی سبیل رب عمر۔ یعنی میں عمر کے راستے میں نہیں لڑتا، بلکہ میں عمر کے رب کے راستے میں لڑتا ہوں۔ دوسری تقابلی مثال سعد بن عبادہ کی ہے۔ سعد بن عبادہ مدینے کے قبیلہ خزرج کے سردار تھے۔ ہجرت سے پہلے بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر انھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ ہجرت کے بعد وہ رسول اللہ کے ساتھی بن گئے۔ مدینے میں اسلام جو تیزی سے پھیلا، اس میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ رسول اللہ کی آخری زندگی تک وہ اسی طرح اپنے حال پر قائم رہے۔ وہ اس وقت بدل گئے، جب کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد ابو بکر صدیق کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہوئی۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا مستحق وہ انصار کو سمجھتے تھے۔ انھوں نے ابو بکر صدیق کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت نہیں کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2016 All issues

Printed page