نیت، بصیرت
الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۳۴
اس کے بعد جب دوسرے مہاجر ، عمر بن خطاب خلیفہ منتخب ہوئے تب بھی انھوں نے خلیفہ دوم کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی ۔ وہ اسی حال پر قائم رہے۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ میں ایک غیر مطلوب شخص بن گیے۔ اب وہ مدینہ چھوڑ کر شام چلے گئے۔ وہاں ہجرت کے پندرھویں سال ان کی وفات ہو گئی۔ خالد بن ولید اور سعد بن عبادہ دونوں اپنی انفرادی زندگی میں اچھے انسان تھے۔ لیکن دونوں کا دو مختلف انجام ہوا۔ خالد بن ولید کو مرکزی قیادت سے اختلاف ہوا۔ یہ ان کے لیے بحران کا وقت تھا۔ لیکن انھوں نے اپنی بصیرت سے اس بحران کو مینیج کرلیا۔ اس طرح ان کا اختلاف ان کی زندگی میں غیر مؤثر بن کر رہ گیا۔ اس کے برعکس سعد بن عبادہ کو مرکزی قیادت سے اختلاف ہوا۔ یہ ان کے لیے ایک بحران کا وقت تھا۔ وہ اس بحران کو مینیج نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صحابہ کی جماعت سے کٹ گئے۔
انفرادی زندگی کے مقابلے میں اجتماعی زندگی کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ انفرادی زندگی میں دوسروں سے اختلاف کی نوبت نہیں آتی۔ لیکن اجتماعی زندگی میں ہمیشہ اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اختلاف ایک امتحان (test) ہوتا ہے۔ جس آدمی کے اندر بصیرت (wisdom) کی صلاحیت موجود ہو، وہ اپنی بصیرت سے اس کی حقیقت کو سمجھ لے گا، اور اس کا منفی اثر قبول کرنے سے بچ جائے گا، لیکن جس انسان کے اندر بصیرت (wisdom) کا مادہ موجود نہ ہو، وہ اس بحران (crisis) کو مینیج کرنے میں ناکام رہے گا۔
مینیج نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس آدمی کے ساتھ جو واقعہ پیش آتا ہے، اس کو وہ غلط معنی میں لے لیتا ہے۔ ایک واقعہ جو فطری اسباب کے تحت پیش آیا، اس کے بارے میں وہ یہ سمجھے گا کہ میری حق تلفی ہوئی، میری قربانیوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ مجھ پر دوسروں کو ترجیح دی گئی۔ میں سازش کا شکار ہوا، میری خدمات کو نظر انداز کر دیا گیا، وغیرہ۔ اس قسم کے خیالات اس کے ذہن پر چھا جائیں گے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت نہ ہوگی کہ وہ معاملے کو صحیح زاویے سے دیکھے، اور اس کے برے اثر سے اپنے آپ کو بچا لے۔