Al-Risala · May 2016 · page 37

انسان کا عجز

الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۳۷

انسان کا عجز

قرآن میں آیا ہے : خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِیفًا (4:28) یعنی انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی کمزوری اس کی تخلیق میں شامل ہے۔ وہ کسی بھی تدبیر کے ذریعے ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ ضعیف مخلوق کے بجائے قوی مخلوق بن جائے۔

ضعف انسان کی ایک ایسی عام صفت ہے کہ اگر انسان سوچے تو وہ ہر لمحہ اس کو یاد کرتا رہے گا۔ مثلاً آپ کھانا کھا رہے ہیں، اگر آپ یہ سوچیں کہ میرا معدہ کھانے کو قبول نہ کرے تو میرے لیے میرا کھانا پتھر کی مانند بن جائے گا۔ آپ چیزوں کو دیکھ رہے ہیں، اب آپ سوچیں کہ میری آنکھ سے اگر بینائی کا خاتمہ ہو جائے تو سورج کی روشنی میں بھی میں چیزوں کو دیکھ نہیں سکتا۔ یہی حال ان تمام چیزوں کا ہے جن کو آدمی روزانہ استعمال کرتا ہے۔ اور جن کی وجہ سے وہ زندہ رہتا ہے اور چلتا پھرتا رہتا ہے اور اپنے سارے کام کرتا ہے۔

انسان کا ضعف اس کے لیے صرف ضعف نہیں۔ بلکہ وہ اس کے لیے وزڈم (wisdom)

کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آدمی اگر اپنے عجز اور ضعف کو سوچے تو اس کے اندر سے بڑائی کا جذبہ ختم ہو جائے گا۔ وہ پورے معنوں میں متواضع (modest) انسان بن جائے گا۔ اور بلاشبہ تواضع، انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ اسی طرح آدمی اگر اپنے ضعف کو یاد کرے تو وہ کبھی اپنے خالق کی یاد سے غافل نہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کا ضعف اس کو یاد دلائے گا کہ دنیا میں زندہ رہنے کے لیے اس کو ایک قابلِ اعتماد سہارا درکار ہے۔ اور یہ قابلِ اعتماد سہارا قادرِ مطلق خدا کے سوا کوئی اور نہیں۔ جس آدمی کو اپنے ضعیف ہونے کا زندہ شعور ہو، وہ آخری حد تک حقیقت پسند (realist) انسان بن جائے گا۔ وہ اپنے بارے میں زیادہ اندازہ (overestimation) کا شکار نہ ہوگا۔ اس کے اندر سے سرکشی کا مزاج پوری طرح ختم ہو جائے گا۔ وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا جس کی نظر ہمیشہ خود اپنی کوتاہیوں پر ہوگی نہ کہ دوسروں کی غلطیوں پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2016 All issues

Printed page