ممکن، ناممکن
الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۳۸
ممکن، ناممکن
آپ جس عورت یا مرد سے ملیں، ہر ایک کو اندر سے غمگین (sad) پائیں گے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے لوگوں کا حقیقت پسند (realist) نہ ہونا۔ لوگ عام طور پر اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ دنیا میں وہ صرف اس چیز کو پا سکتے ہیں جو فطرت کے قانون کے مطابق ان کے لیے ممکن الحصول ہو، فطرت کے قانون کے مطابق جو چیز ان کے لیے ممکن الحصول نہ ہو، وہ ان کو ملنے والی ہی نہیں۔
اس حقیقت سے بے خبری کی بنا پر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ ممکن اور ناممکن کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ وہ ایسی چیز کے حصول کو اپنا مقصود بنا لیتے ہیں جو حقیقت کے اعتبار سے ان کو ملنے والی ہی نہ تھی۔ اگر آدمی اس حقیقت کو جانے اور وہ اپنی زندگی کا منصوبہ اس کے مطابق بنائے تو وہ اپنی زندگی کو یقیناً زیادہ کار آمد بنا سکتا ہے۔
ہر آدمی کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ یہ دریافت کرے کہ دنیا کا نظام خالق کے مقرر کردہ قانون فطرت پر چل رہا ہے۔ یہ قانون کسی کے لیے بھی بدلنے والا نہیں۔ اس لیے ہر آدمی کی پہلی ضرورت یہ ہے کہ وہ فطرت کے قانون کو دریافت کرے، اور اپنی زندگی کا نقشہ اس کے مطابق بنائے۔ کوئی بھی شخص جو ایسا نہیں کرے گا، اس کے لیے اس دنیا میں کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔ ایک جرمن مدبر نے درست طور پر کہا ہے کہ ـــ سیاست ممکن کا کھیل ہے۔
Politics is the art of the possible
یہ اصول صرف سیاست کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ زندگی کے ہر معاملے کے لیے ہے۔ جو شخص ایک ایسی چیز کو اپنا نشانہ بنائے گا جو فطرت کے قانون کے مطابق اس کو ملنے والی نہیں ہے، وہ یقیناً نا کام ہو کر رہ جائے گی۔ اس کے برعکس جو شخص ممکن دائرے میں اپنا منصوبہ بنائے گا، وہ یقیناً کامیابی کا مرتبہ حاصل کرے گا۔