وزڈم میگزین
الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۴۰
سوال و جواب سوال 2015 سے میں ماہ نامہ الرسالہ کا قاری ہوں۔ آپ کی کتابیں بالخصوص پیغمبر انقلاب، غیر ملکی سفر نامے، وغیرہ کا مطالعہ کر چکا ہوں۔ پوسٹ گریجویشن میں تاریخ خصوصی مضمون ہے۔ ایم اے کے دوران آپ کے مضمون تاریخ انسانی کے مطالعے سے تاریخ کے متعلق مستفید ہوا۔ عالمی منظر نامے سے واقفیت رکھنے کے لیے Indian Express پڑھتا ہوں۔ انسانی تاریخ کے مختلف مراحل کو ذہن میں رکھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کا مشن صلح حدیبیہ پر اتفاق، صبر و ضبط کا فارمولا، ہی انسانی زندگی اور اس کی بقاء اور ارتقاء کے لئے لازم ہیں۔ اس دورِ انسانی میں جس میں آپ اور ہم جی رہے ہیں، آپ حالات کی سنگینی سے زیادہ واقف ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ لوگ اسلام کے نام پر، اسلام کو اس طرح پیش کر رہے ہیں جو اسلام کی تعلیمات کے منافی ہیں، صلح حدیبیہ ماڈل کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے ۔ صبر و ضبط اپنی جگہ، ان کی غلط فہمی رفع کرنے کے لئے کس راستے کا انتخاب کیا جائے ۔ ( محمد اسماعیل اشفاق احمد، مسلم پورہ، مالے گاؤں)
جواب
ہمارا لٹر یچر پورا کا پورا اسی سوال کا جواب ہے ۔ آپ نے ابھی صرف چند کتابیں پڑھیں ہیں، اس لیے آپ کو یہ شک پیدا ہوا۔ اگر آپ تمام کتابیں پڑھیں، اور اسی کے ساتھ ہمارا ماہنامہ الرسالہ (اردو)، اور اسپرٹ آف اسلام (انگریزی) کا مطالعہ جاری رکھیں تو آپ کے تمام سوالات رفع ہو جائیں گے، ان شاء اللہ۔
اصل یہ ہے کہ عام طور پر لوگ وقتی مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ لوگوں کا یہی مزاج ہے جو لوگوں کے اندر رد عمل (reaction) کی نفسیات پیدا کرتا ہے ۔ رد عمل کی نفسیات مزید بڑھ کر نفرت کی نفسیات بن جاتی ہے ۔ اور نفرت کی نفسیات آخر کار لوگوں کو تشدد تک پہنچادیتی ہے ۔ لوگوں کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اگر وہ فعال تشدد (active violence) میں مبتلا نہ ہوں تب بھی