Al-Risala · May 2016 · page 41

وزڈم میگزین

الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۴۱

وہ منفعل تشدد (passive violence) کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس نفسیات کا سب سے زیادہ برا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مثبت سوچ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ مثبت سوچ ہی تمام ترقیات کا اصل زینہ ہے۔

سوال

میں الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ یہاں چند سوالوں کی وضاحت مطلوب ہے، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

1۔ آپ نے اعتدال کے موضوع پر کئی مضامین لکھے ہیں، مگر یہ باہم متضاد معلوم ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنی کتاب دُینِ انسانیت میں لکھا ہے کہ: ”معتدل انداز کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ ہر معاملے میں آدمی کو افراط و تفریط سے بچنا ہے۔ ہر معاملے میں، دو انتہاؤں کے درمیان بین بین والی صورت اختیار کرنا ہے“ (صفحہ 125)۔ تاہم الرسالہ کے حالیہ شماروں میں، آپ اس کے برعکس لکھ رہے ہیں۔ اب آپ فرما رہے ہیں کہ ’اعتدال‘ کا تعلق تمام معاملات سے نہیں، بلکہ صرف عملی معاملات سے ہے۔ (الرسالہ، جولائی 2014ء، ص 41، اکتوبر، ص 40، ستمبر 2015 ص 21)۔ مزید یہ کہ آپ نے حالیہ شمارے میں، اعتدال کا تقابل ”حق و ضلال“ سے کیا ہے، جب کہ اعتدال کے مقابلے میں ہمیشہ افراط و تفریط کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

2۔ آپ کی کتابوں میں دعوت پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دعوت کے علاوہ، ایک مومن پر، حقوق اللہ اور حقوق العباد کے تحت، دین کے دوسرے جو تقاضے ہیں، دین میں اُن کی اہمیت کیا ہے؟ مثلاً نماز، زکوۃ، حج، والدین کی خدمت، گھر والوں، پڑوسیوں اور دوسرے انسانوں کی نسبت سے عائد ہونے والے حقوق و فرائض، وغیرہ۔

3۔ حدیث میں ”عزل“ کے بارے میں آیا ہے، کیا یہ جائز ہے۔ اس کے متعلق آپ کی رائے کیا ہے۔ (محمد نسیم خاں، لکھنؤ)

‹ Previous page Next page › Contents of May 2016 All issues

Printed page