تعلق بالله
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۵
تعلق بالله
تعلق بالله کے سلسلے میں جو آیتیں قرآن میں آتی ہیں ، ان میں سے ایک آیت یہ ہے : وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (186: 2) یعنی جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہئے کہ وہ میری بات کو مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ قرآن کی اس آیت میں یہ تو بتایا گیا ہے کہ اللہ پکار کا جواب دیتا ہے۔ لیکن یہ جواب کس صورت میں آتا ہے، اس کا ذکر اس آیت میں نہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے ہدایت آنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بندے کو داخلی اعتبار سے شرح صدر ہو جائے۔ اس شرح صدر کو دوسرے الفاظ میں الہام (inspiration) کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً حضرت آدم کی یہ دعا قرآن میں ان الفاظ میں مذکور ہوئی ہے: قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (7:23)۔ اس دعا کے بارے میں غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ دعا، کوئی وحی نہ تھی، بلکہ وہ الہام یا القاء کی صورت میں حضرت آدم کو حاصل ہوئی ۔ اسی طرح حضرت یونس کے بارے میں آیا ہے: فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (21:87) یہ دعا، بھی بظاہر وحی نہ تھی، بلکہ وہ حضرت یونس کے خود اپنے اندر سے اعتراف خطا کے بعد سے نکلی ۔ بندہ اگر سچے دل سے اپنے رب کو پکارے۔ پھر شرح صدر کی صورت میں اس کے دل میں کوئی بات آجائے، یا وہ کوئی واضح خواب دیکھ لے، یا اس کا ذہن کسی امر کی طرف منتقل ہو جائے تو قرین قیاس یہ ہے کہ اس طرح کا ہر تجربہ اللہ کی طرف سے بطورِ جواب آیا ہے۔ تاہم بندے کو ایسا سمجھنے کا حق صرف اس وقت ہے جب کہ اس کا ذہن اور اس کا ضمیر اور اس کا فہم دین پوری طرح اس کی صداقت پر مطمئن ہو جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues