تحریک اور دعا
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۶
تحریک اور دعا
تحریک (movement) دو قسم کی ہوتی ہے ۔ ایک وہ تحریک جو عوامی بنیاد (popular base) کی بنیاد پر کھڑی ہو۔ یعنی ایک چیز جس کے لیے لوگوں کے اندر پہلے سے جذبہ موجود ہو، اس کے لیے تحریک برپا کرنا۔ ایسی تحریک میں نفسیاتی طور پر اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ داعی باخع النفس (26:3) بن کر اللہ سے دعا کرے۔ جو قائد عوامی جوش و خروش والے کام کے لیے کھڑا ہو اس کے پیچھے اپنے آپ لوگوں کی بھیڑ جمع ہو جائے گی۔ ایسی تحریک میں کامیابی کے لیے پر جوش خطابت کافی ہوتی ہے۔ چناں چہ جو لوگ ایسی تحریک کے لیے اٹھیں، ان کے اندر نفسیاتی طور پر یہ جذبہ پیدا ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مشن کی کامیابی کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ مثلاً ریلیف ورک، سوشل ورک، ملی ورک، فلاحی ورک، اور قومی کام، وغیرہ۔ یہ وہ کام ہیں جن کا تقاضا ہمیشہ پہلے سے لوگوں کے ذہن میں شدت سے موجود ہوتا ہے۔ اس لیے اس طرح کے عوامی کام کے لیے لوگوں کو صرف کال (call) دینا کافی ہوتا ہے۔ لوگ پکار سنتے ہی اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔ اس طرح کے اشو پر جب کوئی جلسہ کیا جائے تو ایسا جلسہ اپنے آپ ایک عظیم الشان جلسہ“ بن جاتا ہے۔
دعوت الی اللہ کا کام اس کے برعکس کام کی مثال ہے۔ دعوت الی اللہ ایک ایسا کام ہے جس کے لیے پیشگی طور پر لوگوں کے اندر جوش و خروش موجود نہیں ہوتا۔ دعوت الی اللہ کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ انسان اپنے اندر منفی سوچ کو ختم کرے، اور مثبت سوچ کو پیدا کرے۔ وہ لوگوں سے نفرت کے بجائے محبت کرنا سیکھے، وہ لوگوں کے ظلم کو بھلا کر یک طرفہ طور پر ان کا خیر خواہ بنے۔ کسی دنیوی کشش کے بغیر صرف آخرت کے جذبے کے تحت لوگوں کو اللہ کی طرف پکارنے کے لیے اٹھے۔ وہ ظالم اور مظلوم کی مساوات (equation) کو کامل طور پر چھوڑ دے، اور داعی اور مدعو کی مساوات (equation) کو دل سے اختیار کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues