Al-Risala · June 2016 · page 12

اختیارِ ایسر ـــ ایک سنت

الرسالہ، جون ۲۰۱۶، صفحہ ۱۲

اختیارِ ایسر ـــ ایک سنت

حضرت عائشہ کی ایک روایت ہے۔ یہ روایت صحیح البخاری، صحیح مسلم، ابوداؤد، الترمذی، المؤطا اور مسند احمد میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ اس روایت میں حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی پالیسی بیان کی ہے۔ صحیح البخاری میں یہ روایت تین ابواب کے تحت نقل ہوئی ہے (کتاب المناقب: باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم؛ کتاب الأدب: باب مالا يستحيا من الحق للتفقه في الدّين؛ كتاب الحدود: باب إقامة الحدود، والإنتقام لحرمات الله) اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ما خيّر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين، إلا اختار أيسرهما۔ یعنی جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان امر کا انتخاب فرماتے۔

یہ حدیث بے حد اہم ہے۔ اس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی جنرل پالیسی کو بیان کیا گیا ہے، مگر عجیب بات ہے کہ محدثین نے اس کی زیادہ تشریح نہیں کی۔ ابن حجر کی فتح الباری کو حدیث کا انسائیکلو پیڈیا سمجھا جاتا ہے۔ ابن حجر نے اس حدیث کو تین ابواب کے تحت نقل کیا ہے، لیکن انھوں نے اس حدیث کی کوئی واضح تشریح نہیں کی۔ انھوں نے صرف یہ لکھا ہے کہ اس' تخییر' کا تعلق، اُمور دنیا سے ہے، مگر انھوں نے امور دنیا کی کوئی متعین عملی مثال نہیں دی (فتح الباری، جلد 12، صفحہ 88)۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ ہر اصول کا ایک عملی انطباق ہوتا ہے۔ مثلاً اسپرچوئیلٹی کے عملی انطباق کو اپلائڈ اسپرچوئیلٹی (applied spirituality) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح سائنس کے عملی انطباق کو اپلائڈ سائنس (applied science) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح حضرت عائشہ کے بیان کردہ پرنسپل کا ایک اپلائڈ پرنسپل (applied principle) ہے، لیکن اس اپلائڈ پرنسپل کی مثالیں کسی بھی شارح حدیث کے یہاں نہیں ملتیں۔ میرے علم کے مطابق، اسلام کی پوری تاریخ میں کسی بھی عالم اور مصنف نے حضرت عائشہ کے اس بیان کردہ اصول کے عملی انطباق کو وضاحت اور تعین کے ساتھ بیان نہیں کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2016 All issues

Printed page