Al-Risala · June 2016 · page 13

اختیارِ ایسر ـــ ایک سنت

الرسالہ، جون ۲۰۱۶، صفحہ ۱۳

اسلامی لٹریچر کا یہ خلا، بلا شبہ ایک عظیم حادثے سے کم نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ قرآن میں نماز کے بارے میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ : أقيموا الصلوة ( البقرۃ : 43) یعنی نماز قائم کرو۔ یہ نماز کے بارے میں اصولی حکم ہے۔ اس کے بعد یہ سوال تھا کہ اس اصول کا عملی انطباق کیا ہے۔ علما نے احادیث کا مطالعہ کر کے نماز کی عملی صورت، یا اپلائیڈ صلوۃ (applied Salah) کے بارے میں بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امت کو غیر مشتبہ طور پر یہ معلوم ہو گیا کہ نماز کا عملی فارم کیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو لوگ حکم نماز کو تو جانتے، لیکن اُس کی عملی صورت سے بے خبر ہونے کی بنا پر وہ نماز کی باقاعدہ ادائیگی سے محروم رہ جاتے۔ حضرت عائشہ کی مذکورہ روایت کے بارے میں بھی یہی چیز درکار تھی۔ یہاں بھی ضرورت تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی پالیسی کو بتاتے ہوئے اُس کے عملی انطباق کو بھی بتایا جاتا، یعنی یہ بتایا جاتا کہ رسول اللہ نے اپنی تئیس سالہ پیغمبرانہ زندگی میں کس طرح اِس اصول کو عملی طور پر اختیار فرمایا۔ بد قسمتی سے اِس دوسرے معاملے میں یہ کام نہ ہوسکا۔ چنانچہ اب یہ صورت حال ہے کہ حضرت عائشہ کی یہ قیمتی روایت، حدیث کی کتابوں میں موجود ہے، لیکن امت اِس کے عملی انطباق سے بالکل بے خبر ہے۔ خاص طور پر جدید دور میں امت کی زبوں حالی کا سب سے بڑا سبب سنت رسول سے لوگوں کی یہی بے خبری ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم، ابدی طور پر خدا کے دین کا عملی نمونہ ہیں۔ دوسری تمام چیزوں کی طرح، جہاد بھی وہی جہاد ہے جس کا نمونہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں ملے۔ جہاد کا جو نمونہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں موجود نہ ہو، وہ یقینی طور پر جہاد نہیں ہے بلکہ وہ کوئی اور چیز ہے، خواہ اُس کو اسلامی جہاد کا نام دے دیا جائے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تتمنّوا لقاء العدو، واسئلو اللہ العافية (صحیح البخاری، کتاب الجہاد) یعنی تم دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، بلکہ خدا سے عافیت مانگو: Don't wish for confrontation with your enemy, instead ask for peace from God. جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت عائشہ نے پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی کو ان الفاظ میں بیان کیا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2016 All issues

Printed page