Al-Risala · June 2016 · page 15

اختیارِ ایسر ـــ ایک سنت

الرسالہ، جون ۲۰۱۶، صفحہ ۱۵

نے اس واقعے کو ہجرت کے بجائے فرار (flight) کا نام دیا ہے۔

اسی طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ چھوڑ کر مدینہ آگئے تو آپ کو یہ موقع ملا کہ آپ دعوتِ توحید کا کام زیادہ بڑے پیمانے پر انجام دے سکیں۔ یہ بات مکہ کے سرداروں کو پسند نہیں آئی۔ انھوں نے آپ کے خلاف باقاعدہ حملہ شروع کر دیا۔ اُس وقت آپ نے مکہ کے سرداروں سے گفت و شنید (negotiation) کا سلسلہ شروع کیا۔ اِس گفت و شنید کا مقصد یہ تھا کہ آپ اور مکہ والوں کے درمیان امن کا سمجھوتہ ہو جائے۔ یہ گفتگو، حدیبیہ کے مقام پر دو ہفتے تک جاری رہی۔

اس گفت و شنید کے دوران یہ واضح ہوا کہ فریقِ ثانی اپنی یک طرفہ شرطوں پر اصرار کر رہا ہے۔ وہ لوگ اِس معاملے میں کسی بھی طرح جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ آخر کار، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سردارانِ قریش کی یک طرفہ شرطوں کو مان لیا، تا کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن قائم ہو سکے۔ اِس طرح صلح حدیبیہ کا واقعہ پایا، جو گویا آپ کے اور فریقِ ثانی کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ (no-war pact) تھا۔ اِس واقعے کے ذریعے پیغمبر اسلام نے امت کو یہ نمونہ دیا کہ مسلح ٹکراؤ کا انتخاب کسی بھی حال میں نہیں لینا ہے، کوئی بھی قیمت دے کر ہر حال میں امن کو قائم رکھنا ہے۔ اسلام میں امن کی حیثیت عموم کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف استثناء کی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتابیں مطالعۂ سیرت، اور امن عالم، وغیرہ) کانٹے سے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ آدمی کانٹے سے نہ الجھے وہ کانٹے کے مقام سے کترا کر آگے بڑھ جائے (سیرہ) | ص

‹ Previous page Next page › Contents of June 2016 All issues

Printed page