Al-Risala · June 2016 · page 14

اختیارِ ایسر ـــ ایک سنت

الرسالہ، جون ۲۰۱۶، صفحہ ۱۴

ہے: ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين، إلا اختار أيسرهما، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان امر کا انتخاب فرماتے:

Whenever the Prophet had to choose between the two, he always opted for the easier of the two. اس قسم کی احادیث کے ساتھ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی کو دیکھا جائے اور پھر اس معاملے کی تشریح کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ اسلام میں مسلح جہاد، یا قتال صرف ایک غیر مطلوب انتخاب (undesirable option) ہے، وہ ہرگز کوئی مطلوب انتخاب (desirable option) نہیں۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کے واقعات واضح طور پر اس نقطہ نظر کی تائید کرتے ہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں توحید کے مشن کا آغاز کیا۔ اُس وقت مکہ شرک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ چنانچہ وہاں کے مشرک سردار آپ کے دشمن بن گئے، پھر بھی آپ کا مشن پھیلتا رہا اور لوگ آپ کے ساتھی بنتے رہے۔ اس طرح تیرہ سال گزر گئے۔ اب مکہ کے مخالفین نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ آپ کو مار ڈالیں۔

یہ 622 عیسوی کا واقعہ ہے۔ اُس وقت آپ کو دو میں سے ایک کے انتخاب کا موقع تھا۔ ایک یہ کہ مکہ کے سرداروں کے حربی چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ، اُن سے مسلح مقابلہ کریں۔ اُس وقت تک مکہ اور اطراف مکہ میں کئی سو افراد آپ پر ایمان لاکر آپ کے ساتھی بن چکے تھے، اس لحاظ سے آپ کے لیے یہ انتخاب بظاہر ایک ممکن انتخاب تھا۔

آپ کے لیے دوسرا انتخاب یہ تھا کہ آپ مسلح ٹکراؤ سے اعراض کریں، خواہ اس مقصد کے لیے آپ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑے، یعنی آپ پر امن طور پر مکہ کو چھوڑ کر باہر چلے جائیں، آپ نے یہی دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے مسلح ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیا اور پر امن ہجرت کا طریقہ اختیار کر کے آپ مدینہ چلے گیے۔ اگر چہ ظاہر پسندوں کی نظر میں یہ کوئی باعثِ عزت طریقہ نہ تھا۔ چنانچہ سیکولر مورخین

‹ Previous page Next page › Contents of June 2016 All issues

Printed page