Al-Risala · June 2016 · page 30

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

الرسالہ، جون ۲۰۱۶، صفحہ ۳۰

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

آج کل مسلمان مختلف مقامات پر متشددانہ کارروائی میں مبتلا ہیں۔ جب اُن کو اس سے روکا جائے، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو وہی کر رہے ہیں جس کا حکم ہم کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ اُس حدیثِ رسول کو پیش کرتے ہیں جس میں اہل ایمان کو تغییرِ منکر کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: من رأی منکم منكراً فليغيّره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، و ذلك أضعف الإيمان (صحیح مسلم، کتاب الإيمان) یعنی تم میں سے جو شخص کسی منکر کو دیکھے، تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنی زبان سے، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنے دل سے، اور یہ سب سے زیادہ کمزور ایمان ہے۔ دوسری روایت میں اس حدیث کا پہلا ٹکڑا ان الفاظ میں آیا ہے : من رأی منکراً فاستطاع أن يغيّره بيده فليغيّره (سنن أبى داؤد، کتاب الملاحم) یعنی جو شخص کسی منکر کو دیکھے، تو اگر وہ استطاعت رکھتا ہو تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ روایت کے بقیہ الفاظ مشترک ہیں۔

اس حدیث کو عام طور پر تشدد کے جواز میں پیش کیا جاتا ہے، حالاں کہ حدیث میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ اس حدیث میں منکر کو عملاً بدل دینے، یا عملاً بدل دینے کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں اس کے خلاف بولنے کا ذکر کیا گیا ہے، نہ کہ منکر کو دیکھ کر لوگوں کے اوپر تشدد کرنے کا، یا خودکش بم باری (suicide bombing) کا۔ اس حدیث سے متشددانہ کارروائیوں کا جواز ہرگز نہیں نکلتا۔ اس روایت میں منکر کی تغییر کا لفظ آیا ہے۔ تغییر کے معنی عربی زبان میں بدل دینے (replacement) کے ہیں، یعنی منکر کی حالت کو بدل کر غیر منکر کی حالت قائم کرنا۔ اس حدیث میں اصلاحِ حال کا حکم ہے، نہ کہ تخریب اور فساد کا۔

عربی زبان کے مشہور لغت 'لسان العرب' میں تغییر کا مفہوم ان الفاظ میں بتایا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2016 All issues

Printed page