Al-Risala · June 2016 · page 31

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

الرسالہ، جون ۲۰۱۶، صفحہ ۳۱

غیرہ: حوله و بدله کانه جعله غیر ما کان (5/40) اس کی تغییر کی، یعنی اس کو بدل دیا۔ گویا کہ اس کو ایسا بنا دیا جیسا کہ وہ پہلے نہ تھا۔ امام راغب الاصفہانی (وفات: 1108) نے اپنی کتاب ’المفردات فی غریب القرآن‘ میں اس لفظ کی تشریح اس طرح کی ہے: يقال غيرت داری إذا بنيتها بناءً غير الذی کان۔ کہا جاتا ہے کہ میں نے اپنے گھر کی تغییر کی، یعنی جب تم اس کی تعمیر کو بدل کر دوسری طرح اس کی تعمیر کرو (صفحہ 368)۔

موجودہ زمانے میں جگہ جگہ جہاد کے نام پر تشدد کے واقعات ہورہے ہیں۔ یہ ’مقدس تشدد‘ مسلم رہنماؤں کی قیادت میں انجام پا رہا ہے۔ اس فعل میں تقریباً تمام امت شریک ہے۔ اس لیے کہ جولوگ براہ راست اس میں شریک نہیں ہیں، وہ اس کے بارے میں خاموش ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے، اُن کی یہ خاموشی بالواسطہ شرکت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس لیے اسلامی اصول کے مطابق، پوری امت کو اس عمل میں شریک مانا جائے گا، کچھ لوگوں کو براہ راست طور پر، اور بقیہ لوگوں کو بالواسطہ طور پر۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس متشددانہ عمل کا کوئی بھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا ہے ۔ اس عمل کا ہر جگہ صرف ایک ہی نتیجہ نکل رہا ہے، اور وہ تخریب ہے، نہ کہ تعمیر۔ ایسی حالت میں بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ متشددانہ کارروائیاں اور جو کچھ ہوں، لیکن وہ تغییر منکر کا عمل ہر گز نہیں۔ تغییر منکر یہ ہے کہ آدمی ناپسندیدہ صورتِ حال کو بدل کر اس کی جگہ پسندیدہ صورتِ حال قائم کرے۔ اس کے برعکس، ایک ایسی کوشش جو کاؤنٹر پروڈکٹیو (counterproductive) ثابت ہو، وہ یقینی طور پر تخریب اور فساد ہے، نہ کہ کوئی مطلوب اسلامی عمل۔

کسی غیر مطلوب صورتِ حال کو دیکھ کر اس کے خلاف منفی ردِعمل ظاہر کرنا، صرف فساد کا ایک عمل ہے، وہ تغییر منکر نہیں۔ تغییر منکر مکمل طور پر ایک مثبت عمل ہے۔ وہ حالات کی اصلاح کے لیے کیا جاتا ہے، نہ کہ حالات کو مزید بگاڑنے کے لیے۔ اصلاحِ حال کا طریقہ یہ ہے کہ غیر متأثر ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کیا جائے اور پھر تعمیری منصوبہ بندی کے ذریعے صورتِ حال کو درست کرنے کی کوشش کی جائے۔ جولوگ اس کے خلاف کریں، وہ بلاشبہ مفسد ہیں، نہ کہ مصلح۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2016 All issues

Printed page