گفتگو کا علمی انداز
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۳۰
گفتگو کا علمی انداز
دو پتھروں کو ایک دوسرے سے ٹکرایا جائے تو اس ٹکرانے سے ایک تیسری چیز ظہور میں آتی ہے، اور وہ چنگاری (sparking) ہے۔ یہی معاملہ انسانی دماغ کا ہے۔ دو دماغ اگر باہم ٹکرائیں تو وہاں بھی ایک تیسری چیز ظہور میں آئے گی۔ یہ ایک نیا تصور (new idea) ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) کہا جاتا ہے۔ ذہنی ارتقا کبھی پرسکون حالات میں پیدا نہیں ہوتا۔ ذہنی ارتقا ہمیشہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب کہ کسی دھماکے سے کسی انسان کے اندر ذہنی طوفان (brainstorming) وجود میں آئے۔
اس معاملے میں فکری اختلاف (dissent) کا بہت بڑا رول ہے۔ دو انسانوں کے درمیان فکری اختلاف ہو اور پھر دونوں کے درمیان انتہائی آبجیکٹیو (objective) انداز میں کھلا تبادلہ خیال (open discussion) ہو۔ دونوں کسی ریزرویشن کے بغیر خالص علمی انداز میں اپنا اپنا نقطہ نظر بیان کریں۔ دونوں میں سے کوئی مشتعل نہ ہو، بلکہ دونوں خالص دلائل کی روشنی میں تبادلہ خیال کریں۔
اس قسم کی گفتگو کو علمی تبادلہ خیال (scientific discussion) کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی گفتگو اگر کامل غیر جذباتی انداز میں کی جائے تو اس کے بعد ہمیشہ یہ ہوگا کہ ایک تیسرا آئیڈیا ایمرج (emerge) کرے گا جس طرح دو پتھروں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز ایمرج (emerge) کرتی ہے۔ اس مثبت اختلاف کی شرط صرف یہ ہے کہ دونوں فریقوں میں سے ہر فریق خالص دلائل کی روشنی میں اظہار خیال کرے، وہ الزام تراشی کی زبان ہرگز اختیار نہ کرے۔ اس قسم کی گفتگو کو قرآن میں مجادلہ احسن (16:125) کہا گیا ہے۔ مجادلہ احسن وہ ہے جس میں اپنی بات کو کنڈیشننگ سے اوپر اٹھ کر ریزن (reason) کی بنیاد پر کہا جائے، اور دوسروں کی بات کو کنڈیشننگ سے اوپر اٹھ کر ریزن (reason) کی بنیاد پر سنا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues