Al-Risala · January 2016 · page 29

با اصول زندگی کی قیمت

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۹

با اصول زندگی کی قیمت

مومن ایک با اصول انسان ہوتا ہے۔ با اصول زندگی کی بنا پر اس کو جو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، اس کو قرآن میں ایمانی آزمائش کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی کچھ آیتوں کے ترجمے یہ ہیں: کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالاں کہ ابھی تم پر وہ حالات نہیں گزرے جو تمھارے اگلوں پر گزرے تھے۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ یاد رکھو، اللہ کی مدد قریب ہے (2:214) کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محض یہ کہنے پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو جانچا نہ جائے گا۔ اور ہم نے ان لوگوں کو جانچا ہے جو ان سے پہلے تھے، پس اللہ ان لوگوں کو جان کر رہے گا جو سچے ہیں اور وہ جھوٹوں کو بھی ضرور معلوم کرے گا۔ (3: 29-2) اہلِ ایمان پر یہ آزمائش بارش کی طرح آسمان سے نہیں آتی، بلکہ روزمرہ کی زندگی میں معمول کے حالات کے تحت آتی ہے۔ مومن کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس آزمائش کو پہچانے اور اس میں صبر کا ثبوت دے تا کہ وہ اللہ کی نظر میں کامیاب ٹھہرے۔

قدیم زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اس لیے یہ آزمائشی حالات اکثر تشدد کی صورت میں پیش آتے تھے۔ اب مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ اب اہلِ ایمان پر جو آزمائش آئے گی ، اس کی صورت مختلف ہوگی۔

موجودہ زمانے میں اہلِ ایمان پر جو آزمائش آئے گی، وہ زیادہ نفسیاتی معنی میں ہوگی۔ یعنی ایسے حالات جو انسان کی ایگو (ego) کو بھڑکائیں، ایسے حالات جو انسان کے اندر نفرت کا جذبہ پیدا کریں، ایسے حالات جو انسان کو حق کے راستے سے دور کرنے والے ہوں، ایسے حالات جو انسان کو بددل کرنے والے ہوں، وغیرہ۔ اس قسم کے حالات میں انسان کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو منفی سوچ سے بچائے، اور ہر حال میں اپنے آپ کو مثبت سوچ پر قائم رکھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues

Printed page