Al-Risala · July 2016 · page 13

بیماری کا مثبت پہلو

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۱۳

بیماری کا مثبت پہلو

بیماری بظاہر ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ لیکن گہرائی کے ساتھ غور کیا جائے تو بیماری میں بھی ایک عظیم مثبت پہلو موجود ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کرنے کے لیے اس کے گھر جاتے تو آپ بیمار سے کہتے : لا بأس، طہور إن شاء اللہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5656)۔ یعنی کوئی حرج نہیں، یہ پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔

محدث ابن حجر نے اس حدیث کی بابت لکھا ہے : إن شاء الله يدل على أن قوله طهور، دعاءء لا خبر ۔ یعنی یہاں ان شاء اللہ کا لفظ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ کا یہ قول خبر نہیں ہے بلکہ وہ دعا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کا یہ قول دعاء کی صورت میں ایک خبر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیمار کے اندر مثبت سوچ پیدا ہو، بیماری کے باوجود وہ مایوس نہ ہو۔ اس دعاءمیں انسان کے لیے تسکین کا ایک پہلو موجود ہے۔ اس لیے کہ بیماری کے بعد اکثر انسان کو شفا حاصل ہوتی ہے (26:80)۔ اس طرح بیماری کے واقعے میں یہ سبق پایا جاتا ہے کہ اس دنیا کا نظام بازیابی (recovery) کے اصول پر بنا ہے۔ یہاں کا اصول یہ ہے کہ کسی درخت کی ایک شاخ ٹوٹ جائے تو وہاں دوبارہ ایک نئی شاخ نکل آئے۔ انسان کو کوئی بیماری لاحق ہو تو اس کے بعد قانونِ فطرت کے مطابق وہ دوبارہ صحت مند ہو جائے۔ اس طرح اس دنیا میں کسی چیز کو کھونے کے بعد اس کو پانا (regaining of something lost) کا معاملہ ہے۔

نقصان کے بعد تلافی یا بازیابی کا یہ اصول ہر قسم کے نقصان پر صادق آتا ہے، مالی نقصان، سیاسی نقصان، وغیرہ۔ اس بنا پر انسان کے لیے اس دنیا میں کسی بھی حال میں شکایت کا موقع نہیں (no place for complaint)۔ انسان کے لیے اس قانون کی اہمیت بہت زیادہ تھی، اس لیے انسان کے لیے اس معاملے کو بیماری یا حادثہ وغیرہ کی صورت میں ذاتی تجربہ (personal experience) کی حیثیت دی گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues

Printed page