بیماری کا مثبت پہلو
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۱۴
تلافی مافات کے اس اصول کا تعلق جس طرح فرد کے لیے ہے، اسی طرح وہ قوم کے لیے بھی ہے۔ ایک قوم زوال کا شکار ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے۔ ایک تہذیب ختم ہو جائے تو اس کے بعد دوبارہ اس کا احیاء (revival) کیا جا سکتا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آدمی بیماری میں مبتلا ہو، پھر وہ عیادت کرنے والوں کے سامنے اس کا شکوہ نہ کرے تو اس کے لیے جنت لکھ دی جاتی ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 8801)
عیادت کرنے والوں سے شکایت نہ کرنے پر جنت ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو آدمی شکایت نہ کرے تو اس کو اپنے آپ جنت حاصل ہو جائے گی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر شکایتی نفسیات سے گہری سوچ پیدا ہوتی ہے۔ پھر اس کے مطابق اس کے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر ہونے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس کو جنت کا مستحق قرار دیا جائے۔ کسی نقصان پر اس کی تلافی کا اصول ایک اہم فطری اصول ہے۔ مستحق شخص کو یہ تلافی لازماً حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو چیز کھوئی گئی ہے وہی چیز اس کو دوبارہ مل جائے۔ یہ تلافی اکثر کسی متبادل صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس متبادل تلافی کو پہچانے۔ مثلاً یہ ہو سکتا ہے کہ اس کا نقصان تو مالی نوعیت کا ہو، لیکن تلافی کے طور پر اس کو جو چیز ملے وہ نفسیاتی ہو۔ یعنی سبق کی صورت میں یا ذہنی ارتقا کی صورت میں، یا روحانی ترقی کی صورت میں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ نقصان تو دنیا میں ہو لیکن اس کی تلافی آخرت میں کی جائے۔ انسان کا تمام معاملہ سوچ پر مبنی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کبھی ردِ عمل (reaction) کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو۔ بلکہ جب بھی کوئی نا خوشگوار صورت حال پیش آئے تو وہ معتدل ذہن کے ساتھ اس پر غور کرے ۔ وہ منفی واقعہ میں مثبت واقعہ کو دریافت کرنے کی کوشش کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کو قانونِ فطرت کی تائید حاصل ہوگی۔ وہ منفی واقعہ میں مثبت پہلو کو دریافت کر لے گا۔ اور اس طرح وہ اپنے آپ کو مایوسی سے بچانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مایوسی ایک غیر فطری چیز ہے، وہ کوئی فطری چیز نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues