شیطان سے بچیے
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۱۵
شیطان سے بچیے
شیطان کس طرح انسان کو بہکاتا ہے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کسی معمولی بات کو زیادہ بڑھا چڑھا کر انسان کو دکھانا۔ نظر انداز کرنے والی بات کو اس طرح سنگین صورت میں پیش کرنا کہ انسان کو غصہ آجائے، اور وہ ایسا کام کرنے لگے جو اس کو نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی ایک مثال خلیفۂ دوم عمر بن خطاب کا واقعہ ہے۔ عمر بن خطاب بلاشبہ ایک عادل خلیفہ تھے۔ لیکن مدینہ کے ایک شخص ابولولوفیروز کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک معمولی واقعہ تھا، مگر شیطان نے ابولولو کو اتنا زیادہ بھڑکا یا کہ اس نے سازش کرکے عمر بن خطاب کو قتل کر دیا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں بے حد چوکنارہے۔ جب بھی کوئی منفی بات اس کے ذہن میں آئے تو وہ اس کو شیطان کی بات سمجھے۔ وہ ایسی بات کو فوراً اپنے ذہن سے نکال دے۔ وہ اس بات کا تجزیہ کرکے اس کو اپنے ذہن میں غیر موثر بنا دے۔
ہر عورت اور مرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اتنا ہوش مند بنے کہ شیطان اس کو بہکانا چاہے لیکن وہ اس کو بہکانے میں کامیاب نہ ہو۔ اس معاملے میں قرآن کی ایک متعلق آیت کا ترجمہ یہ ہے: جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آجاتی ہے۔ (الاعراف: 201)
موجودہ دنیا میں کوئی شخص ، نفس اور شیطان کے حملوں سے خالی نہیں رہ سکتا۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صرف اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کو بے حد حساس بنا دیتا ہے۔ یہی حساسیت موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ جب بھی آدمی کے اندر کوئی غلط خیال آتا ہے یا کسی قسم کی منفی نفسیات ابھرتی ہے تو اس کی حساسیت فوراً اس کو بتا دیتی ہے کہ وہ پھسل گیا ہے۔ ایک لمحہ کی غفلت کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی ہے، اور وہ اللہ سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ اپنے کو درست کر لیتا ہے— حساسیت آدمی کی سب سے بڑی محافظ ہے، جب کہ بے حسی آدمی کو شیطان کے مقابلے میں غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues