زوال کی علامت
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۱۸
زوال کی علامت
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: لَتُنْقَضَنَّ عُرَى الإِسْلامِ عُرْوَةً عُرْوَةً، فكلما انتقضت عروة تشبث الناس بالتي تليها، و أولهن نقضا الحُكْمُ و آخرهن الصلاة۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 22160) یعنی اسلام کی کڑیاں ایک ایک کر کے توڑ دی جائیں گی۔ جب بھی کوئی ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس کے بعد والی کڑی سے چمٹ جائیں گے، اور ان کڑیوں میں سے پہلی کڑی جو ٹوٹے گی وہ حُکم ہوگا، اور آخری کڑی جو ٹوٹے گی وہ نماز ہوگی۔
اس حدیث میں ایک تمثیل کے ذریعے امت کے زوال کی حالت بتائی گئی ہے۔ زوال کا آغاز حکم کے خاتمے سے ہوتا ہے۔ حکم کا مطلب حکمت (wisdom) ہے۔ یہاں حکمت کا لفظ عام معنی میں نہیں بلکہ دینی معنی میں ہے۔ یعنی امت کے افراد میں حکمت دنیا تو باقی رہتی ہے لیکن حکمت دینی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ نماز سے مراد، نماز کی صورت (form) نہیں بلکہ نماز کی اسپرٹ ہے۔ زوال کے زمانے میں لوگ بظاہر نماز کا اہتمام تو کرتے ہیں لیکن عملاً وہ فارم کی نماز ہوتی ہے نہ کہ اسپرٹ کی نماز۔ حکم اور صلاۃ دونوں کے خاتمے کا سبب ایک ہوتا ہے۔ اور وہ ہے دین کی حقیقت گم ہو جانا، اور اس کا صرف کلچر کی سطح پر باقی رہنا۔ حکم سے مراد دین کی سمجھ ہے۔ زوال کے زمانے میں یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کا تعلق زیادہ سے زیادہ اپنے دنیوی معاملات سے ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فطری طور پر یہ ہوتا ہے دین کے بارے میں لوگوں کی حساسیت پہلے کم ہوتی ہے اور پھر ختم ہو جاتی ہے۔ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے دنیوی معاملات میں مشغول رہتے ہیں۔ اس مشغولیت کے بنا پر عملاً یہ ہوتا ہے کہ دین کی حساسیت صرف وہ لوگ زندہ رکھ پاتے ہیں جو عملی مشغولیت کے باوجود فکری طور پر بیدار ہوں اور بالقصد سوچ کی سطح پر دین کی اسپرٹ کو باقی رکھیں۔ اس کے برعکس اگر ایسا نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر سے دین کی سمجھ ختم ہو جاتی ہے، اور لوگ بے روح فارم کو دین سمجھ لیتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues