فتووں کی شریعت
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۱۹
فتووں کی شریعت
پرنٹنگ پریس 1440 میں ایجاد ہوا۔ اس کا موجد جرمنی کا گوٹن برگ (Johannes Gutenberg) ہے۔ مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس زیادہ دیر میں عام ہوا۔ 1727 ء میں ترکی میں ابراہیم متفرقہ نے پرنٹنگ پریس قائم کیا۔ پریس کا قیام کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ ۔۔۔ (مگر اس وقت کے) با اقتدار علماء نے اسے ”بدعت“ تصور کیا، شیخ الاسلام نے فتویٰ دیا کہ (اس پر) مذہبی کتابوں کا چھاپنا شرعاً ممنوع ہے۔ (اشخاص وافكار، ضیاء الحسن فاروقی ، ص 16-17، این سی پی یوایل، نئی دہلی، 2011)۔
حرمت کے فتووں کا رواج اصحابِ رسول کے زمانے میں موجود نہ تھا۔ بعد کے زمانے میں جب امت میں زوال آیا تو علماء تقلید کی روش پر قائم ہو چکے تھے۔ وہ ہر نئی چیز کو توحش کی نظر سے دیکھنے لگے ۔ وہ ہر نئی چیز کو شریعت کے خلاف سمجھنے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ حرمت کے فتووں کا رواج عام ہوا۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
”حرمت کی شریعت‘ کے اس رواج کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب زمانے سے بے خبری (unawareness) ہے۔ بعد کے زمانے میں علماء اپنے وقت کی علمی ترقیوں سے بے خبر ہو گئے ۔ اس بنا پر وہ ہر نئی چیز کو غلط سمجھنے لگے۔ اگر یہ علماء جدید حالات سے واقف ہوں، اگر وہ وقت کے علمی معیار پر نئے مسائل کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں تو وہ نئے حالات کا مطالعہ کریں گے۔ وہ علمی انداز میں اس کا تجزیہ کریں گے۔ اور پھر وقت کی علمی سطح پر اس کی نوعیت کو بیان کریں گے۔ وہ تکفیر کی زبان استعمال کرنے کے بجائے علمی تجزیہ کی زبان استعمال کریں گے۔ بلکہ وہ نئے پیدا شدہ حالات کو اپنے ذہنی ارتقا کے لیے فکری خوراک بنا لیں گے۔ مگر بدقسمتی سے بعد کے زمانے کے مسلم علماء اس اہلیت کا ثبوت نہ دے سکے۔ ہر چیز جو ان کی سمجھ میں نہیں آئی، اس پر وہ منفی ردعمل کا اظہار کرنے لگے۔ یہ ذہنی جمود کی حالت ہے۔ اور ذہنی جمود کی حالت اسلام میں مطلوب نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues