Al-Risala · July 2016 · page 20

داعی کا اخلاق

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۲۰

داعی کا اخلاق

مشہور صحابی انس بن مالک کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : شج النبي صلى الله عليه وسلم يوم أحد، فقال : "كيف يفلح قوم شجوا نبيهم؟ ". فنزلت: ليس لك من الأمر شيء - (صحیح مسلم حدیث نمبر 1791)۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے۔ اس وقت آپ نے فرمایا : وہ قوم کیسے فلاح پائے گی، جو اپنے نبی کو زخمی کرے ۔ اس پر قرآن میں یہ آیت اتری، تم کو اس معاملے میں کوئی دخل نہیں۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کا اخلاق کیا ہونا چاہیے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ یکطرفہ اخلاقیات کا طریقہ اختیار کرے۔ یعنی مدعو کے سلوک پر کوئی شکایت نہ کرنا۔ شکایت اور احتجاج سے پوری طرح اوپراٹھ جانا، ہر حال میں ردعمل کی نفسیات سے کامل طور پر پاک ہونا۔ داعی اپنے مدعو کا مکمل طور پر خیر خواہ ہوتا ہے۔ یہی خیر خواہی کی اسپرٹ داعی کے اندر وہ اخلاقیات پیدا کرتی ہے جو داعی کو کامل طور پر ایک بے شکایت انسان بنا دیتی ہے۔ داعی کے اندر یک طرفہ اخلاقیات کی یہ صفت لازمی طور پر ضروری ہے۔ داعی اگر اس کردار کا حامل نہ ہو تو وہ کبھی دعوت الی اللہ کا کام نہیں کر سکتا۔

دعوت سے مراد دعوت الی اللہ ہے۔ داعی اپنا دعوتی کام اللہ کے لیے کرتا ہے۔ وہ اپنے عمل کے لیے اللہ سے اجر کی امید رکھتا ہے۔ مدعو کا رویہ خواہ کچھ ہو، داعی ہر تجر بے کو اللہ کی نسبت سے دیکھتا ہے۔ داعی کے اندر اگر ردعمل کا مزاج پیدا ہو جائے ، وہ اپنے مدعو سے ٹکراؤ شروع کر دے تو اس کی دعوت ، وہ دعوت نہ ہوگی جو اللہ کو مطلوب ہے۔ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ دعوت کے ذریعے انسان کے اوپر حجت تمام ہو۔ اس کو یہ کہنے کا موقع باقی نہ رہے کہ ہم بے خبر تھے۔ داعی کے اندر یکطرفہ اخلاقیات کا مقصد یہ ہے کہ مدعو کے لیے کسی قسم کا عذر باقی نہ رہے، مدعو کے ساتھ آخرت میں جو معاملہ کیا جائے وہ ہر اعتبار سے ایک جائز معاملہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues

Printed page