Al-Risala · July 2016 · page 28

مواقع کا استعمال

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۲۸

مواقع کا استعمال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس کے بعد آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ مدینہ کے لوگوں نے بہت جلد آپ کو اپنا قائد تسلیم کر لیا۔ اس کا راز یہ تھا کہ آپ کی ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مدینہ (یثرب) کے دو قبائل ، اوس اور خزرج کے درمیان جنگ ہوئی۔ جو جنگ بعاث کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ میں دونوں قبیلوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ اس سلسلے میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : کان یوم بعاث ، یوما قدمه الله لرسوله (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3777) ۔ یعنی آپ کی ہجرت سے پہلے جنگ بعاث کا ہونا، یہ اللہ کی طرف سے آپ کی ایک مدد تھی۔

اس جملہ کی شرح کرتے ہوئے شارحین نے لکھا ہے : لو کان صناديدهم أحياء لما انقادوا لرسول الله صلى الله عليه وسلم حبا للرياسة ( عمدۃ القاري للعینی، بیروت، 17/ 64 ۔ الکواکب الدراری فی شرح صحیح البخاری للکرمانی، بیروت، 1981، 15/ 139)۔ یعنی اگر ان کے بڑے بڑے سردار اس وقت زندہ ہوتے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہرگز اطاعت نہ کرتے، اپنی سرداری کی محبت میں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت حال کو سمجھا، اور نہایت حکمت کے ساتھ اس کو استعمال کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف سرداروں کا مارا جانا کافی نہ تھا، بلکہ یہ بھی ضروری تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچنے کے بعد نہایت حکمت کا طریقہ اختیار فرمائیں۔ تا کہ کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل ایمان کے لیے موافق حالات ہمیشہ پیدا ہوتے ہیں۔ مگر صرف حالات کا پیدا ہونا کافی نہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مسلم قائدین ان حالات کو سمجھیں، اور پیدا شدہ مواقع کو حکمت کے ساتھ استعمال (avail) کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکیمانہ طریقہ بھی اہل ایمان کے لیے ایک سنت کی حیثیت رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues

Printed page