بڑوں کی صحبت
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۲۹
بڑوں کی صحبت
ایک نوجوان انڈیا میں پیدا ہوئے۔ انڈیا میں انھوں نے تعلیم حاصل کی۔ تعلیم میں ان کو اعلیٰ درجے کی ڈگری ملی۔ پھر وہ یورپ چلے گیے۔ اب وہ یورپ کے ایک ترقی یافتہ شہر میں آرام و آسائش کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس نوجوان کی بہن ابھی انڈیا میں رہتی ہے۔ بھائی سے ٹیلیفون پر بہن کی بات ہوئی۔ بہن نے بے تکلفی کے انداز میں کہا کہ تم انڈیا واپس آجاؤ۔ یہ سن کر بھائی نے جواب دیا۔ کیا میں پاگل ہوں۔
مذکورہ بھائی ابھی جوانی کی عمر میں ہیں۔ یورپ کے شہر میں وہ اچھی صحت کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کو ابھی زندگی کے گہرے مسائل کا تجربہ نہیں۔ اگر وہ جانتے کہ ان کی جوانی اور صحت ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں۔ دوسرے انسانوں کی طرح وہ بھی ایک دن بوڑھے اور ضعیف ہو جائیں گے۔ اس کے بعد زندگی ان کے لیے اسی طرح ایک بوجھ (burden) بن جائے گی جس طرح دوسرے بوڑھے مردوں اور عورتوں کے لیے بن جاتی ہے تو وہ اس قسم کا جواب نہ دیتے۔ اس واقعے کو سن کر مجھے ایک حدیث رسول زیادہ واضح طور پر سمجھ میں آئی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: البركة مع أكابركم (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 559)۔ یعنی برکت تمھارے اکابر کے ساتھ ہے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: الخير مع أكابركم (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، حدیث نمبر 12618)۔ یعنی خیر تمھارے اکابر کے ساتھ ہے۔ اس حدیث میں اکابر کا لفظ پر اسرار بزرگی کے معنی میں نہیں۔ بلکہ یہ لفظ زندگی کی ایک فطری حقیقت کو بتاتا ہے۔ اکابر کا لفظ یہاں معمر اشخاص (seniors) کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ افراد جو صحیح زندگی گزاریں اور پھر وہ زیادہ عمر تک پہنچ جائیں۔ تو فطری طور پر وہ زیادہ اہل دانش (man of wisdom) بن جاتے ہیں۔ ان کی باتیں سننے والے اور ان کے ساتھ بیٹھنے والے کو ان سے حکمت و دانائی کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues